کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں پاکستان سے امریکہ آیا ہوں ،مجھے یہاں پرفجر اور عشاء کیلئے کونسا طریقہ اختیار کرنا چاہیئے؟مجھے اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے پندرہ ڈگری والے یا کراچی یونیورسٹی کے اٹھارہ ڈگری والے وقت میں سے کس پر عمل کرنا چاہیئے؟
واضح ہوکہ فقہ حنفی کے مطابق فجر کی نماز کا وقت مشرق کی جانب افق پر چوڑائی میں پھیلنے والی روشنی جسے صبح صادق کہا جاتا ہے سے شروع ہوتا ہے، اسی طرح عشاء کی نماز کا وقت شفق احمر کے بعد شفق ابیض کے ختم ہونے پر داخل ہوتاہے ،جبکہ اس وقت کو ڈگری اور ٹائم کے اعتبار سے متعین کرنا سائنسی اور فنی حسابات کے تجربہ پر منحصر ہے،اور جمہور علماء کرام اورماہرین فلکیات نے بارہا تجربہ کے بعد فجر اور عشاء کی نماز کیلئے اٹھارہ ڈگری کو ہی معتبر قرار دیا ہے،لہذا سائل کو چاہیئے کہ وہ پندرہ ڈگری کے بجائے اٹھارہ ڈگری والے نقشہ (جو کہ مفتق علیہ ہے )پر عمل کرے۔
کما فی الدر الختار : (وقت) صلاة (الفجر) قدمه لأنه لا خلاف في طرفيه، (الی قولہ) (من) أول (طلوع الفجر الثاني) وهو البياض المنتشر المستطير لا المستطيل (إلى) قبيل (طلوع ذكاء) بالضم غير منصرف اسم الشمس. (کتاب الصلوۃ، ج: 1، ص:359،ط: دارالفکر بیروت)
و فی الشامیۃ تحت: (قوله: وهو البياض إلخ) لحديث مسلم والترمذي واللفظ له «لا يمنعنكم من سحوركم أذان بلال ولا الفجر المستطيل ولكن الفجر المستطير» " فالمعتبر الفجر الصادق وهو الفجر المستطير في الأفق: أي الذي ينتشر ضوءه في أطراف السماء لا الكاذب وهو المستطيل الذي يبدو طويلا في السماء كذنب السرحان أي الذئب ثم يعقبه ظلمة.[فائدة] ذكر العلامة المرحوم الشيخ خليل الكاملي في حاشيته على رسالة الأسطرلاب لشيخ مشايخنا العلامة المحقق علي أفندي الداغستاني أن التفاوت بين الفجرين وكذا بين الشفقين الأحمر والأبيض إنما هو بثلاث درج. اهـ.(ایضا)
و فی الھندیۃ:وقت الفجر من الصبح الصادق وهو البياض المنتشر في الأفق إلى طلوع الشمس ولا عبرة بالكاذب وهو البياض الذي يبدو طولا ثم يعقبه الظلام فبالكاذب لا يدخل وقت الصلاة ولا يحرم الأكل على الصائم(الی قولہ)ووقت العشاء والوتر من غروب الشفق إلى الصبح. كذا في الكافي.(کتاب الصلوۃ،الباب الاول فی مواقیت الصلوۃ، :1،ص: 51،ط:دارالفکر بیروت)
و فی خزانۃ المفتیین : وللوقت أول وآخر؛ فأول وقت الفجر من حين يطلع الفجر المعترض في الأفق إلى طلوع الشمس (الی قولہ) وأول وقت العشاء حين تغيب الشفق ، وهو: البياض الذي يلي الحمرة (کتاب الصلوۃ،باب مواقیت الصلوۃ:ص:326،ط:)