مباحات

استاد کو مدرسہ کی ملازمت سے فارغ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
90130
| تاریخ :
2025-12-18
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

استاد کو مدرسہ کی ملازمت سے فارغ کرنے کا حکم

میں عرض گزار ہوں کہ میں ایک مدرسے میں بطور ایک معلّم حفظ خدمات انجام دے رہا تھا، ادارے کے باقاعدہ تقرری فارم میں یہ شرط واضح طور پر درج تھی کہ:
1: اگر ادارہ استاد کو سال کے دوران نکال دے تو ادارہ سال کے باقی مہینوں کی پوری تنخواہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
2: اور اگر استاد خود چھوڑ کر جائے تو ادارے کو اختیار ہوگا کہ چاہے بقیہ تنخواہ دے یا نہ دے۔
یہ شرط مطلق طور پر تمام اساتذہ کیلئے درج تھی، اور فارم میں کہیں بھی یہ تخصیص نہیں تھی کہ یہ شرط صرف ”کتب پڑھانے والے اساتذۃ“ کے لیےہےاور”حفظ کے اساتذہ“ اس سے مستثنی ہیں۔
چند دن قبل ادارے نے مجھے فارغ کردیا، تو میں نے ان سے وجہ پوچھی، تو انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک طالب علم کو مارا پیٹا ہے،اس بنیاد پر آپ کا مدرسے سے اخراج ہوا ہے، تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے کسی طالب علم کو نہیں مارا ہے، تو انہوں نے خود جاکر کلاس کے بچوں سے پوچھا تو بچوں نے جواب دیا کہ آج تو قاری صاحب نے کسی بھی طالب علم کو نہیں مارا پیٹا ہے، تو مدرسہ کے انتظامیہ نے اس پر کہا کہ آپ نے کچھ وقت پہلے ایک بچے کی پٹائی کی تھی، تو میں نے جواب میں کہا کہ پھر تو مجھے اسی ٹائم نکالنا چاہیئے تھا، اگر میری یہی غلطی تھی، اتنے وقت کے بعد اس غلطی پر نکالنے کا کیا جواز بنتا ہے؟ خیر اس کے بعد جب میں نے معاہدہ کے مطابق باقی سال کی تنخواہ کا مطالبہ کیا تو ادارے کی طرف سے یہ جواب ملا کہ ”یہ شرط صرف کتب والوں کیلئے ہے، حفظ والوں کیلئے نہیں“ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ فارم اور اس کی تمام شرائط پورے ادارے کے تمام اساتذہ کے لیے مشترکہ طور پر بنائے گئے تھے، اور کسی جگہ بھی اس میں کتب یا حفظ کی کوئی تخصیص موجود نہیں، لہذا ادارے کی یہ تاویل باقی سال کی تنخواہ ادا نہ کرنے کا بہانہ معلوم ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ حفظ کے شعبے کا نگران شخص عدمِ اعتماد اور غیر شائستہ اخلاق کی وجہ سے بچوں کی نگرانی کے قابل نہیں سمجھا جاتا، ادارے کے ذمہ داران اس حقیقت سے واقف بھی ہیں، بعض انتظامی کمزوریوں اور اسی نگران کی غلطیوں کو بنیاد بنا کر مجھے فارغ کیا گیا، حالانکہ اصل خرابی نگران کی وجہ سے تھی، نہ کہ میری۔
اب دریافتِ طلب یہ امر ہےکہ ایسی صورت میں جبکہ فارم کی شرط مطلق ہے اور ادارے نے مجھے خود نکالا ہے، کیا میں سال کی باقی مہینوں کی پوری تنخواہ کا شرعاً حقدار ہوں یا نہیں؟ جب فارم تمام اساتذہ کے لیے مشترکہ تھا، تو کیا ادارے کا بعد میں یہ کہنا کہ ” یہ شرط صرف کتب والوں کے لیے ہے“ شرعاً درست ہے؟ کیا ایک نگران کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو بنیاد بنا کر ایک بے قصور استاد کو نکال دینا شرعاً ظلم، خیانت اور وعدہ خلافی شمار ہوگا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مدرسہ کی انتظامیہ اور استاد کے درمیان طے پانےوالا معاملہ اجارہ کا ہوتا ہے اوراس میں استاد کی حیثیت اجیر خاص کی ہوتی ہے، لہذا مدرسہ اور استاد کے مابین اگر یہ عقد معلوم مدت مثلاً ایک سال کے لیے طے پایا ہو(جیسا کہ فارم کی بیان کردہ ساخت سے معلوم بھی ہو رہا ہے) تو اس مدت کی تکمیل سے قبل بغیر کسی شرعی عذر کےیکطرفہ طور پر اس عقدکو فسخ کرنا درست نہیں ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پرکہ وہ مدرسے کی جانب سے تفویض کردہ ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دے رہا ہو، اوراس کی جانب سے کسی قسم کی کوتاہی بھی سرزد نہ ہوئی ہو،پھر اس کے باوجود مدرسے کی انتظامیہ اسے بلا وجہ اور بغیر کسی معقول اور شرعی عذر کے مقررہ مدت سے قبل معزول کردے ، تو ایسی صورت میں ادارے پر لازم ہے کہ وہ اپنے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے سائل کی بقیہ مدت کی تنخواہ پوری ادا کرے۔
جبکہ ادارے کے فارم میں اگر واقعۃً کسی قسم کی کتب وتحفیظ کی تخصیص نہ کی ہو تو اب ادارے والوں کا اس بات سے مکر جانا ، اور مذکورہ شرائط صرف کتب کی اساتذہ کیلئے خاص کرنا درست نہیں، اور مدرسےکےاستادکو بغیر کسی معقول عذر کے محض بغض وعناد کی بنیاد پر ملازمت سے فارغ کرنا وعدے خلافی کے زمرے میں آتا ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح للبخاری : عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبیﷺ قال آیۃ المنافق الثلاثۃ اذا حدث کذب واذا وعد اخلف واذا اؤتمن خان الخ (باب علامۃ المنافق، ج1، ص143، ط: بشری)۔
کما فی الدر المختار: (والثانی) وھو الاجیر ( الخاص ) ویسمی اجیر وحد (وھو من یعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصیص ویستحق الاجر بتسلیم نفسہ فی مدۃ وان لم یعمل الخ (کتاب الاجارۃ، ج6، ص69، ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ : يصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت قصرت المدة كاليوم ونحوه أو طالت كالسنين، كذا في المضمرات. ويعتبر ابتداء المدة مما سمى، وإن لم يسم شيئا فهو من الوقت الذي استأجرها، كذا في الكافي الخ (الباب الثالث فی الاوقات التی یقع علیھا عقد الاجارۃ، ج4، ص415، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: الإجارة تنقض بالأعذار عندنا الخ
وفیھا ایضاً: وليس للمؤاجر أن يفسخ الإجارة إذا وجد زيادة على الأجرة التي آجر بها، وإن كان أضعافا. كذا في غاية البيان الخ (الباب التاسع عشر في فسخ الإجارة بالعذر، ج4، ص458، ط:سعید)۔
وفی مجمع الانھر : (وتفسخ) الاجارۃ (بالعذر) عندنا الخ (باب فسخ الاجارۃ، ج2، ص399، ط:داراحیاء التراث العربی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90130کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات