مباحات

الیکٹریشن کا ریپئرنگ کیلئے دی ہوئی موٹر فروخت کرنے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
90119
| تاریخ :
2025-12-17
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

الیکٹریشن کا ریپئرنگ کیلئے دی ہوئی موٹر فروخت کرنے کی ایک صورت کا حکم

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ محترم ومکرم
ایک شخص کی سمرسیبل موٹر وائنڈنگ کا دوکان ہے پچھلے 35 سال سے اب تک لیکن کچھ موٹر پرانی اور نئے پڑھیں ہیں دکاندار کے پاس مالک لینے نہیں آتے ہیں
کچھ موٹروں کے مالک وفات پا گئیں ہیں انکے اہل وعیال نہیں آتے
دکاندار نے اخبارات میں بھی اشتہار دی ہے کہ آئین لے جائیں موٹروں کو
لیکن اب تک کچھ خبر نہیں
دکاندار کے گھر پر پڑے ہیں
نئے گھر کھنڈرات بن چکے ہیں گھر کے دیواریں کریک اور فرش خراب ہوگئی ہیں
دکاندار نے بہت انتظار کی انکی
اب مسئلہ یہ ہے ان گھروں میں دکاندار کو رہائش کرنا ہے
تو ان موٹروں کو دکاندار فروخت کر سکتا ہے ان پیسوں سے گھر کی مرمت کرسکتا ہے
اور وہ رقم اپنے اوپر خرچ کرسکتے ہیں
دکاندار کو کچھ لوگوں نے ایڈوانس پیسے دیے ہیں اور کچھ کے پیسے ابھی باقی ہیں دکاندار کے پیسے بند ہیں ان موٹر اور سمرسیبل میں
آپ ہماری رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کی جانب سے خوب تشہیر اور اعلان کے بعد اب اگر اسے مالکان کے رجوع کرنے سے مایوسی ہوچکی ہو، تو اسے ان موٹروں کو فروخت کرنے کی اجازت ہے، مگر جو رقم حاصل ہوگی، اس پر لازم ہے کہ وہ اس رقم سے اپنے کیے ہوئے کام کی اجرت لے کر بقیہ رقم کسی مستحق کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دے، اور اگر وہ خود بھی مستحق ہو تو اسے یہ رقم اپنے استعمال میں لانے کی بھی گنجائش ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين:تحت (قوله: إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها) لم يجعل للتعريف مدة اتباعا للسرخسي فإنه بنى الحكم على غالب الرأي، فيعرف القليل والكثير إلى أن يغلب على رأيه أن صاحبه لا يطلبه، وصححه في الهداية، وفي المضمرات والجوهرة وعليه الفتوى.اھ(كتاب اللقطة،ج:4،ص:278،ط:ایچ ایم سعید)
و فی النهاية في شرح الهداية: وإنّما قلنا ذلك؛ لأن حق الفقراء في هذا المال بمنزلة حقّهم في اللُّقَطَة، على معنى أن له أن يتصدّق، وله أن يردّه على مالكه إن شاء- أي: له أن ينتظر إلى أن يوجد مالكه- ثم الملتقط إذا كان محتاجًا فله أن يَصرف اللقطة إلى حاجة نفسه، بخلاف ما إذا كان غنيًّا، فكذلك حكم هذه الغلة). (باب جواز استعانة الغاصب بالغلة إذا هلك العبد في يده، ج : 21،ص:129، ط : مركز الدراسات الإسلامية)
و فی الشامی تحت قولہ:(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في العقبي)."اھ(کتاب اللقطہ، ج: ۴، ص: ۲۸۳، ط:ایچ ایم سعید)
و فی النھایۃ فی شرح الہدایۃ:([وفي هذا نظرمن الجانبين) أي: من جانب المالك بإبقاء عين ماله، ومن جانب الملتقط بالرجوع على المالك بما أنفق على اللقطة] (فإذا لم يظهر يأمر ببيعها) "وإذا باعها أعطاه القاضي من ذلك الثمن ما أنفق بأمره في اليومين والثلاثة لأن الثمن مال صاحبها، والنفقة دين واجب للملتقط على صاحبها، وهو معلوم للقاضي فيقضي دينه بماله لأن صاحب الدين لو ظفر بجنس حقه كان له أن يأخذه، فكذلك القاضي بعينه على ذلك، وإن لم يبعها حتى جاء صاحبها وأقام البينة أنها له قضى له بها القاضي، وقضى عليه بنفقة الملتقط" ؛ كذا في المبسوط ۔اھ(باب فی حكم إلتقاط الأنعام ،ج:12،ص: 134،ط: مركز الدراسات الإسلامية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90119کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات