مباحات

ہوٹل بکنگ کی چند صورتوں اور ان کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
89906
| تاریخ :
2025-12-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

ہوٹل بکنگ کی چند صورتوں اور ان کی آمدن کا حکم

ہم بحیثیت ٹریول ایجنٹ اپنے کسٹمر کو ہوٹل بکنگ کی سہولیات فراہم کرتے ہیں جس کی مندرجہ ذیل نوعیات ہوتی ہیں:
نوعیت 1:مثال کے طور پر کوئی ہوٹل یا کمپنی جو ہمیں پر نائٹ 100 ریال کا روم دیتا ہے اور ہم اسے آگے 120 ریال کا اپنے کسٹمر کو بتا دیتے ہیں تو کیا یہ درست ہے ؟
نوعیت 2:ہوٹل بکنگ کی مختلف ویب سائٹس موجود ہیں بعض دفعہ ہم وہاں سے بھی ہوٹل بک کر کر اپنے کسٹمر کو مہنگے داموں فروخت کر دیتے ہیں جیسے کہ 10 ہزار روپے پر نائٹ کا کمرہ لے کر 12 ہزار روپے پر نائٹ میں اپنے کسٹمر کو بیچ دیا۔
نوعیت 3:سعودی عرب میں رمضان میں عموما آخری عشرے میں ہوٹلوں میں کمرے ایجنٹس کو پہلے ہی فروخت کر دیے جاتے ہیں اور بعد میں ایجنٹ اسے اپنے کسٹمر کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں،کیا ہوٹل بکنگ کی یہ تمام صورتیں جائز ہیں؟ واضح رہے کہ ہم کسی بھی بکنگ میں اپنے کسٹمر کو اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ یہ کمرہ ہمیں کتنے کا پڑا ہے بلکہ ہم اسے ٹوٹل قیمت بتاتے ہیں کہ یہ کمرہ آپ کو اتنے کا ملے گا،جواب عنایت فرما دیں،شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اجارہ میں اصل تو ىہ ہے كہ اجاره كے تحت حاصل کی جانے والی چیز مستاجر خود استعمال کرے، آگے کرایہ پر نہ دے، البتہ اگر اجارہ کے معاملہ کے وقت ىہ اجازت دی گئی ہو کہ مستاجر اسے آگے اجارے پر دے سکتا ہے یا وہ چیز ایسی ہوكہ استعمال کرنے والے کے مختلف ہونے سے اس کے استعمال پر فرق نہ پڑتا ہو، تو ایسی صورت میں یہ چیز آگے اجاره پر دی جا سکتی ہے، البتہ فقہائے احناف کہ ہاں اس ضمنی اجارہ میں مستاجر صرف اتنی اجرت وصول کر سکتا ہے جو وه خود اس کی ادا کر رہا ہو، اس سے زیادہ اجرت وصول نہیں کر سکتا، إلّا ىہ كہ اس چیز میں ایسا کوئی عمل کرے جو اس کی ذات میں قیمتاً اضافے کا سبب ہو یا اجرت کی جنس تبدیل کرے، مثلا: پہلا اجارہ پاکستانی روپے میں ہو اور دوسرا ریال میں تو پھر اضافی اجرت وصول کرنا بھی جائز ہوتا ہے، البتہ دیگر فقہائے کرام ؒ دوسرے اجارہ میں طے كى جانے والى اجرت کو مطلقا جائز قرار دیتے ہیں، ىعنی دوسرے معاملے کی اجرت پہلے سے كم ىا برابر بھی ہو سکتی ہے، اور اس سے زیادہ بھی طے کی جا سکتی ہے، مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق ٹرىول ایجنسی کے کاروبار کے عرف اور ضرورت کی وجہ سے مسئولہ تینوں صورتوں میں اضافی قیمت پر کسٹمر کو ہوٹل بکنگ دینے کی دیگر فقہاء کرام کی رائے کے مطابق گنجائش معلوم ہوتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وله السكنى بنفسه وإسكان غيره بإجارة وغيرها) وكذا كل ما لا يختلف بالمستعمل يبطل التقييد؛ لأنه غير مفيد، بخلاف ما يختلف به كما سيجيء، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا، ولو آجرها من المؤجر لا تصح وتنفسخ الإجارة في الأصح بحر معزيا للجوهرة، وسيجيء تصحيح خلافه فتنبه اهـ [كتاب الإجارة، ‌‌باب ما يجوز من الإجارة وما يكون خلافا فيها، ج:6 ص:28 ط:سعيد]
وفي المحيط البرهاني: قال محمد رحمه الله: وللمستأجر أن يؤاجر البيت المستأجر من غيره، فالأصل عندنا: أن ‌المستأجر ‌يملك ‌الإجارة فيما لا يتفاوت الناس في الانتفاع به؛ وهذا لأن الإجارة لتمليك المنفعة والمستأجر في حق المنفعة قام مقام الآجر، وكما صحت الإجارة من الآجر تصح من المستأجر أيضا فإن أجره بأكثر مما استأجره به من جنس ذلك ولم يزد في الدار شيء ولا أجر معه شيئا آخر من ماله مما يجوز عند الإجارة عليه، لا تطيب له الزيادة عند علمائنا رحمهم الله وعند الشافعي تطيب له الزيادة، حجته في ذلك: أن هذا ربح بما قد ضمن فيطيب له كما في بيع العين، فإنه إذا اشترى شيئا فباعه بأكثر مما اشترى بعد القبض فإنه يطيب له الربح لأنه ربح؛ بما قد ضمن فكذلك هاهنا اهـ [كتاب الإجارات، الفصل السابع: في إجارة المستأجر، ج:7 ص:429 ط: دار الكتب العلمية بيروت)]
وفي الفتاوى الهندية: وإذا استأجر دارا وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها، وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتدا أو حفر فيها بئرا أو طينا أو أصلح أبوابها أو شيئا من حوائطها طابت له الزيادة اهـ [كتاب الإجارة، الباب السابع في إجارة المستأجر، ج:4 ص:425 ط: ماجدية]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89906کی تصدیق کریں
1     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات