میرا سوال یہ ہے کہ نمازی کے آگے گزرنے کے کیا آداب ہیں؟ کیا ویسے ہی ہے جیسے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں ہوتا ہے کہ، لوگ آگے سے گزر جاتے ہیں یا مقامی مسجد کے لیے مختلف ہے؟
واضح ہو کہ بلا حائل نمازی کے آگے سے گزرنے پر احادیث مبارکہ میں بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئیں ہیں، البتہ اگر بڑی مسجد ہو اور گزرنے والے کے لیے دوسرا راستہ نہ ہو ، اور وہ نمازی کے سامنے تین صفیں چھوڑ کر اس کے بعد سے گزر جائے ، تو اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوگا، جبکہ نماز پڑھنے والے کو بھی چاہیئے کہ جب وہ انفرادی طور پر نماز پڑھ رہا ہو ،تو اپنے سامنے سترہ رکھے یا اگلی صفوں میں نماز کا اہتمام کرے ، تاکہ اس سے پہلے فارغ ہونے والے کسی نماز کے سامنے سے گزرنے کے گناہ میں ملوث نہ ہو۔
ففی صحيح البخاري: باب إثم المار بين يدي المصلي: عن بسر بن سعيد، أن زيد بن خالد، أرسله إلى أبي جهيم يسأله: ماذا سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم في المار بين يدي المصلي؟ فقال أبو جهيم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه» اھ (1/ 108)
وفی التتارخانیة: فی مقدار ما یجب أن یکون المصلی والمار حتی لا یکره المرور (إلی قوله) ومنهم من قدره بقدر صفین أو ثلاثة (إلی قوله) وإن کان المسجد کیبر اھ (۱/ ۶۳۰) واللہ أعلم بالصواب!