یہ تو معلوم ہے کہ سالگرہ منانا اسلامی عمل نہیں، لیکن اگر منانا ہو تو کیا بدھ کے دن منا سکتے ہیں؟
واضح ہو كہ سالگرہ منانا نبی کریمﷺ، صحابہ کرام۔رضوان اللہ علیھم اجمعین۔ اور سلف صالحین۔رحمھم اللہ۔ سے ثابت نہیں، بلکہ یہ غیر قوموں کی ایجاد ہے، جیساکہ سائل کو بھی معلوم ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سالگِرہ کی تقریب چاہے بدھ کے دن ہو یا دوسرے کسی دن ہو، بہر دو صورت اس سے احتراز لازم ہے ، تاہم اگر سالگرہ کی رسم پر عمل کیے بغیر کسی دن گھر کے افراد، عزیز، واقارب جمع ہو جائیں اور اس دوران کھانے پینے کی دعوت یا جائز سیر اور تفریح کا انتظام ہو جائے تو شرعا اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
کما في مشكاة المصابيح: عن ابن عمر۔رضی اللہ عنه۔ قال: قال رسول اللہ ﷺ من تشبه بقوم فھو منھم۔رواہ احمد وابوداؤد
وفي مرقاة المفاتیح: أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم): أي في الإثم والخير. [(8/ 155)]