منتخب نام

فریحہ،فارعہ،فاکہہ ،فروہ اور فائقہ نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
89611
| تاریخ :
2025-12-04
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / منتخب نام

فریحہ،فارعہ،فاکہہ ،فروہ اور فائقہ نام رکھنا کیساہے

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
میں اپنی آنے والی بچی کے لیے با معنی اسلامی نام منتخب کرنا چاہتی ہوں۔ براہِ کرم ان ناموں کے صحیح معانی اور شرعی حیثیت بتا دیں: فریحہ، فارعہ، فاکہہ، فروا، فائقہ۔
مہربانی فرما کر یہ بھی بتا دیں کہ ان میں سے کون سا نام رکھنا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔
جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نام رکھنے کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں دن یا پیدائش کے فوراً بعد ایسا نام جو عبدیت اور بندگی کے معنی پر مشتمل ہو یا انبیاء و صلحاء میں سے کسی کا نام ہو یا کم از کم صحیح معنی و مفہوم پر مشتمل ہو تجویز کر لیا جائے،جبکہ سوال میں مذکورہ پانچوں ناموں کے معانی بالترتیب یہ ہے ؛ فریحہ : خوش، مسرور، ہشاش ۔ فارعہ :لمبی، خوبصورت، حسین۔ ۔ و فاکہہ : ہر قسم کا پھل جس کو کھا کر لذت حاصل کی جائے۔ فَروَة: ( زبرو تاءِ مداولہ کے ساتھ) : توانگری ۔ مالداری ۔البتہ یہ بچہ کے لئے اور بچی کے لئے ام فروة (دولت والی یا باعزت خاتون)۔فائقہ :اعلیٰ، برتر، ممتاز، سبقت لے جانے والی۔۔ لہذا بچی کیلئے ان پانچوں ناموں میں سے کوئی بھی نام تجویز کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے البتہ فا رعہ اور ام فروة صحابیا ت کے ناموں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في مشكاة المصابيح: وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه اھ (باب تسمیة الأولاد ،ج:۲،ص: ٩٣٩ )
و فی الھندیة: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكر ه رسول الله صلى الله عليه الله وسلم ولا استعمله المسلمون يكلموا فيه والأولى
ان لا تفعل كذا فى المحيط –(ب: تسمیة الأولاد ،ج : ۵ ،ص :٣٦٢ ، م : ماجدیہ)
و فی المنجد : فَرِحَ (س) فرحاً۔ خوش ہونا اَکڑنا ۔ صفت ( فارِح و فَرِح) ۔(ج :۱،ص: ۶۳۳،ط : مکتبہ قدوسیہ )
و فیہ ایضاً :فَارع۔فا۔خوبصورت ۔ بلند ۔ پست۔ الفارعة مؤنث فارع ۔ ( ج : ۱، ص : ۶۳۷،ط : مکتنة قدوسیة)
و فیہ ایضاً : الفاکہة ۔ مؤنث فاکہ ۔ ہر قسم کا پھل جس کو کھا کر لذت حاصل کی جائے ۔(ج ؛ ۱ ، ص :۶۵۲، ط؛ مکتبة قدوسیة)
و فیہ ایضا : الفَروَة۔ ( زبرو تاءِ مدولہ کے ساتھ) مع بالوں کے سر کی کہال ۔عورت کا سربند۔ تاج ۔ توانگری ۔ مالداری ۔ ( ج : ۱،ص : ۶۴۰،ط : مکتبہ قادریہ)
و فی الإصابة في تمييز الصحابة: فارعة بنت عبد الرحمن الخثعمية :لها ذكر في الصّحابة، روى عنها السّري بن عبد الرّحمن، كذا في الاستيعاب.
ج : ۸،ص:261 ط:- دار الكتب العلمية)
و فی أسد الغابة في معرفة الصحابةأَخرجه الثلاثة (٣)، إِلا أَن ابن منده وأَبا نعيم لم ينسباه، وقالا: فروة، وله صحبة، ذكره البخاري في الصحابة.
٤٢١١ - فَرْوة بن خِرَاش الأَزْدِي۔(س) فَرْوة بن خِرَاش الأَزْدِي.(ج: ۴،ص:356 ،ط ؛-كتاب الشعب)
و فیہ ایضا :وروى بإسناده، عن إسحاق بن أبي إسرائيل، عن مُؤمل، عن سفيان، عن أبي إسحاق، عن أُم فروة ظئر النبي ﷺ قالت: قال لي رسول اللَّه ﷺ، إذا أويت إلى فراشك فاقرئي ﴿قُلْ يا أَيُّهَا الْكافِرُونَ﴾، فَإنَّها براءَةٌ من الشرك (١).(حرف الفاء،ج : ۷،ص:376 : ط:کتاب الشعب)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89611کی تصدیق کریں
0     395
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات