مباحات

ختنہ کے موقع پر دعوت کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
89484
| تاریخ :
2025-12-03
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

ختنہ کے موقع پر دعوت کی شرعی حیثیت

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں ،میرا تعلق اندرونِ سندھ سے ہے اور سندھ کے بعض علاقوں میں جب بچے کا ختنہ کیا جاتا ہے ،تو اس موقع پر باقاعدہ تقریب منعقد کر کے اہتمام سے کھانا کھلایا جاتا ہے ،اور ہم نے بعض علاقے کے بزرگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اس کھانے کو تناول نہیں فرماتے ،آپ حضرات اس بارے میں جواب عنایت فرمائیں کہ کیا اس طرح تقریبِ ختنہ کا کھانا کھانا شرعا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ میں بچے کے ختنہ کے موقع پرعقیقہ کے علاوہ کھانے کی دعوت کا ثبوت نہیں ملتا ،اس لیے بچے کے ختنے کے موقع پر کھانے کی تقریب کا اہتمام درست نہیں ، البتہ اس سنت عمل ( ختنہ ) کی ادائیگی کی خوشی میں بغیر کسی رسم اور سنت سمجھے کھانا یا مٹھائی و غیرہ کا انتظام کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبی داود: عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس فھو رد ( باب فی لزوم السنۃ ج 7 ص 15، ط: دار الرسالۃ العلمیۃ)۔
و فی الھندیۃ: لا ينبغي التخلف عن إجابة الدعوة العامة كدعوة العرس والختان ونحوهما، وإذا أجاب، فقد فعل ما عليه أكل أو لم يأكل، وإن لم يأكل فلا بأس به والأفضل أن يأكل لو كان غير صائم،الخ (كتاب الكراهية، ج:5،ص:34،)۔
و فی درر الحکام: وقوله: في البدائع ينبغي أن تجوز إذا كان أحدهم يرى الوليمة يؤيده ما في المبتغي من التنصيص على أنها سنة حيث قال الوليمة طعام العرس والخرس طعام الولادة والمأدبة طعام ‌الختان والوكيرة طعام البناء والعقيقة طعام الحلق والنقيعة طعام القادم والوضيمة طعام التعزية وكلها ليست بسنة إلا طعام العرس فإنه سنة لقوله عليه الصلاة والسلام «أولم ولو بشاة» الخ ( کتاب الأضحیۃ ج:1،ص:266،ط:دار احیاء الکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89484کی تصدیق کریں
1     239
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات