نجاسات اور پاکی

پاک اور ناپاک کپڑوں کو ایک ساتھ دھونےکی صورت میں پاک کرنے کاطریقہ

فتوی نمبر :
89258
| تاریخ :
2025-11-28
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پاک اور ناپاک کپڑوں کو ایک ساتھ دھونےکی صورت میں پاک کرنے کاطریقہ

اگر کوئی شخص اپنے ناپاک کپڑوں کو پاک کپڑوں کے ساتھ واشنگ مشین میں ڈال دے ،اور مشین میں پانی بھرے اور کپڑوں کا چکر لگايا جائے اور پھر واشنگ مشین سے پانی نکال ديا جائے ، پھر دوسری ، تیسری اور کئی مرتبہ ايسا کیا جائے اور آخری مرتبہ صرف ایک بار واشنگ مشین کے خشک کرنے والے حصے سے نچوڑا جائے اور کسی کپڑے پر نجاست کا کوئی نشان باقی نہ رہے تو کیا وہ سارے کپڑے پاک ہونگے یا نہیں ؟( اس طریقے سے کپڑوں کو صرف ایک مرتبہ نچوڑا جاتا ہے تین مرتبہ نہیں) مہربانی کر کے اس مسئلے میں فقہ اور فتاو ی کی کتابوں کا حوالہ دے کر جواب تحریر فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واشنگ مشین میں ناپاک کپڑے دھونے کے بعد اگر کئی دفعہ اس قدر پاک پانی ان کپڑوں پر بہایا جائے جس سے نجاست زائل ہونے کا یقین یا غالب گمان ہو جائے ،تو اگر چہ ان کپڑوں کو آخر میں ایک ہی دفعہ نچوڑا جائے ، تب بھی وہ کپڑے شرعا ً پاک شمار ہوں گے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و) يطهر محل (غيرها) أي غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد، به يفتى. (وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) ( الی قولہ ) وهذا كله إذا غسل في إجانة،أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختارالخ
وفی الشامیۃ تحت : (قوله: في إجانة) بالكسر والتشديد: إناء تغسل فيه الثياب والجمع أجاجين مصباح أي: إن هذا المذكور إنما هو إذا غسل ثلاثا في إجانة واحدة أو في ثلاث إجانات. قال في الإمداد: والمياه الثلاثة متفاوتة في النجاسة، فالأولى يطهر ما أصابته بالغسل ثلاثا، والثانية بثنتين والثالثة بواحدة، وكذا الأواني الثلاثة التي غسل فيها واحدة بعد واحدة، وقيل يطهر الإناء الثالث بمجرد الإراقة والثاني بواحدة، والأول بثنتین بقي لو غسل في إجانة واحدة قال في الفيض: تغسل الإجانة بعد الثلاث مرة اهـ وشمل كلامه ما لو غسل العضو في الإجانة فإنه يطهر عندهما. وقال أبو يوسف: لا يطهر ما لم يصب عليه الماء، وعلى هذا الخلاف لو أدخله في حباب الماء ولو في خوابي خل يخرج من الثالثة طاهرا عند أبي حنيفة؛ خلافا لهما، لاشتراط محمد في غسل النجاسة الماء، واشتراط أبي يوسف الصب بدائع اھ( قولہ اما لو غسل ) نقل ھذہ الجملۃ فی البحرعن السراج ( الی قولہ ) أقول: لكن قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها ولو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل ولا عصر، وأن المعتبر غلبة الظن في تطهير غير المرئية بلا عدد على المفتى به أو مع شرط التثليث على ما مر، ولا شك أن الغسل بالماء الجاري وما في حكمه من الغدير أو الصب الكثير الذي يذهب بالنجاسة أصلا ويخلفه غيره مرارا بالجريان أقوى من الغسل في الإجانة التي على خلاف القياس؛ لأن النجاسة فيها تلاقي الماء وتسري معه في جميع أجزاء الثوب.(كتاب الطهارة،باب الأنجاس،ج 1، ص 331، ط : سعید )۔
و فی الھندیة : و إزالتھا إن کانت مریئة بازالة عینھا و اثرها إن کانت شیئا یزول أثره و لا یعتبر فیه العدد الخ ( کتاب الطھارۃ الباب السابع فی النجاسۃ ج:1،ص:41،ط:ماجدیۃ)۔
و فیھا أیضا: ثوب نجس غسل فی ثلاث جفان أو فی واحدۃ ثلاثا و عصر فی کل مرۃ طھر لجریان العادۃ بالغسل ھکذا فلو لم یطھر لضاق علی الناس الخ ( کتاب الطھارۃ الباب السابع فی النجاسۃ ج:1،ص:42،ط:ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89258کی تصدیق کریں
0     60
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات