احکام نماز

جنابت اور حیض کی حالت میں پہنے ہوئے کپڑوں میں نما ز وغیرہ عبادات ادا کی جاسکتی ہے؟

فتوی نمبر :
88973
| تاریخ :
2025-11-19
عبادات / نماز / احکام نماز

جنابت اور حیض کی حالت میں پہنے ہوئے کپڑوں میں نما ز وغیرہ عبادات ادا کی جاسکتی ہے؟

میاں بیوی نے ہمبستری کرنے کے بعد غسل نہیں کیا ،لیکن خود کو پانی سے اچھی طرح دھو لیا اور دوبارہ لباس پہن لیا، لباس صاف بھی ہے اور بعد میں غسل بھی کر لیا ہے، کیا یہ لباس پاک ہے، اور کیا اس لباس کو پہن کر نماز اور قرآن پڑھ سکتے ہیں؟ نیز ماہواری کے دوران پہنا گیا لباس اگر صاف ہو تو کیا وہ پاک ہے اور کیا اس کو پہن کر نماز اور قرآن پڑھ سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جنابت اور حیض و نفاس کے ایام کی ناپاکی سب نجاستِ حکمیہ ہیں ،جن کی وجہ سے حائضہ عورت کا ظاہری جسم ناپاک نہیں ہوتا ،اور اس دوران پاک کپڑے پہننے سے وہ کپڑے ناپاک نہیں ہوتے ،چنانچہ صورتِ مسئولہ میں ہمبستری کے بعد جسم پر ظاہری نجاست سے بدن کو پاک کرنے کے بعد پہنا گیا لباس ،اسی طرح ایام حیض میں استعمال کیا گیا لباس دونوں پاک شمار ہوں گے ،بشرطیکہ کوئی ظاہری نجاست (خون وغیرہ) نہ لگی ہوئی ہو ،چنانچہ اسے پہن کر نماز وغیرہ کی ادائیگی شرعاً درست ہو گی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الصحیح للمسلم: عن عائشۃؓ قالت قال لی رسول اللہ ﷺ ناولینی الخمرۃ من المسجد قالت فقلت إنی حائض فقال إن حیضتک لیست فی یدک (باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا و ترجلیہ ج:1،ص:236،ط: بشری)۔ٍ
و فی سنن ترمذی: عن أبی ھریرۃؓ أن النبی ﷺ لقیہ فھو جنب قال فنخنست فاغتسلت ثم جئت فقال أین کنت؟ أو أین ذھبت قلت إنی کنت جنبا قال إن المؤمن لا ینجس (ج:1،ص:108،ط:بشری)۔
وفیہا أیضا: عن أسماء ابنۃ أبی بکر الصدیقؓ أن إمرأۃ سألت النبی ﷺ عن الثوب یصیبہ الدم من الحیضۃ فقال رسول اللہ ﷺ عن الثوب یصیبہ الدم من الحیضۃ فقال رسول اللہ ﷺ حتیہ ثم اقرصیہ بالماء ثم رشیہ و صلی فیہ ( باب ما جاء فی غسل دم الحیض من الثوب ج:1،ص:118،ط: بشری)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88973کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات