مباحات

فاترالعقل آدمی کا پیسہ اسی پر خرچ کرنا

فتوی نمبر :
88963
| تاریخ :
2025-11-18
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

فاترالعقل آدمی کا پیسہ اسی پر خرچ کرنا

اگر بوڑھے ماں باپ یا ساس سُسر زندہ ہوں، مگر فاترالعقل ہوں، کھانا کھاکر بھول جائیں، کسی کے گھر جا کر اپنی باتیں بھول جائیں، یا اپنا سامان اور اپنا پیسہ رکھ کر بھول جائیں تو کیا ان کا وہ پیسہ ہم اپنے گھر میں استعمال کرسکتے ہیں جہاں وہ رہ رہے ہیں؟کیا ان کے زندہ ہوتے ہوئے ان کے کھانے پینے پر خرچ کیا جاسکتا ہے؟اور جن کا پیسہ ہے، کیا ان ہی پر اس کو خرچ کرنا درست ہے؟مثلاً ان کے لیے اچھا کھانا پکا کر دینا،کیا یہ جائز ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں والدین/ساس سسر اگرچہ اپنی یادداشت اور شعور کھو بیٹھے ہوں، مگر ان کی زندگی میں ان کا مال شرعاً بدستور ان ہی کی ملکیت شمارہوگا ، لہٰذااولاد یاداماد،بہو وغیرہ کیےلیےان کا مال اپنے ذاتی استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں، یہ تصرف خیانت کے مترادف ہے ،البتہ اگر وہ واقعی فاترالعقل ہوں اور اپنے مال کے متعلق کوئی درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں تو ان کے مال میں صرف ان کی ضروریات، جیسے کھانا، دوا، علاج، لباس وغیرہ کی حد تک اس کے شرعی ولی کو تصرف کا حق حاصل ہوگا، اس لیے ان کے کھانے پینے، علاج اور آرام کے لیے ان ہی کے مال کو استعمال کرنا جائز ہے،اس کے علاوہ ان کا مال کسی اور کے فائدے یا گھریلو اخراجات میں لگانا شرعاً درست نہیں،جس سے بہرصورت احترازچاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکوٰۃ المصابیح:وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى(کتاب البیوع، باب الغصب والعارية، الفصل الثانی،ج:1،ص:261، ط: رحمانيه)۔
وفی الموسوعۃ الفقھیۃ: نص الفقهاء على أنه يلزم على ولي المجنون والمجنونة تدبير شئونه ورعاية أموره بما فيه حظ المجنون، وبما يحقق مصلحته، فينفق عليه في كل حوائجه من ماله بالمعروف، ويداويه ويرعى صحته، ويقيده ويحجزه عن أن ينال الناس بالأذى أو ينالوه به إن خيف ذلك منه، صونا له، وحفظا للمجتمع من ضرره الخ(‌‌‌‌النوع الثاني: الولاية على النفس، السبب الثاني الجنون،ج: 45،ص: 172، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية الكويت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہ کریم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88963کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات