السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! خدا کرے مزاج بعافیت ہو، حضرت ایک معروف مولانا صاحب ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ دعوت کا فریضہ قلم سے ادا ہو ہی نہیں سکتا اور کسی بھی طریقہ سے ادا نہیں ہو سکتا، کیونکہ دعوت بدنی فریضہ ہے، بدن سے ہی ادا ہوگا، کیا ان کی یہ بات درست ہے، جبکہ بہت سے بڑے علماء ان کی اس بات کی تردید کر چکے ہیں، پھر بھی وہ اپنے بیانات میں بہت شدت سے یہ بات کہتے رہتے ہیں فقط والسلام ۔محمد طارق حسین۔
واضح ہوکہ دعوتِ دین کا اصل مقصد لوگوں تک حق بات پہنچانا، خیر کی تعلیم دینا اور گمراہی سے بچانا ہے۔ شریعت نے دعوت کے لیے کسی ایک مخصوص طریقے کی تحدید نہیں کی، بلکہ ہر وہ وسیلہ جائز اور معتبر ہےجوشریعت کی بیان کردہ حدودکے اندرہواور اس کے ذریعے دین کی صحیح تعلیمات لوگوں تک پہنچ سکیں ۔قرآن و سنت کی روشنی میں دعوت کا دائرہ وسیع ہے
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾
ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو۔
اس آیت کریمہ میں کسی مخصوص انداز کی قید نہیں لگائی گئی ہے،بلکہ نبی کریم ﷺ نے خطوط لکھ کر بادشاہوں کو دعوت دی۔یہ عمل قلم اور تحریر سے دعوت ہی کا تھا، جسے رسول اللہ ﷺ نے خود کیا۔اس کے علاوہ صحابہ کرام و ائمہ عظام کا طرزِ عمل بھی اس پرشاہدہے ،صحابہ کرام کے خطوط، فتوے، دستوری ہدایات، سب قلم اور تحریر کے ذریعے دعوت کا بہترین نمونہ ہیں۔محدثین، فقہاء، مفسرین، یہ سب دعوت، اصلاح اور اقامتِ دین کا بڑا حصہ تحریر سے کرتے رہے۔
اگر دعوت قلم سے ادا ہی نہیں ہوسکتی توپوری علمی وراثت کیونکر وجود میں آتی؟اور امت کی سب سے بڑی خدمت، یعنی دینی علوم کی حفاظت، کیسے ممکن ہوتی؟
بلاشبہ دعوت میں بدنی محنت بھی شامل ہے، جیسے ملاقات، بیان، سفر، عملی نمونہ؛لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرے تمام ذرائع مثلاًخط وکتابت،تصنیف وتالیف وغیرہ دعوتِ دین کاحصہ نہ ہوں ، یہ سب بھی دعوت کے جائز اور مؤثر ذرائع ہیں۔
اس لیے مذکورعالم کایہ دعوی کہ دعوت دین کاجوکام"صرف" بدن سے ہو ،وہی معتبرہے،اوردعوت دین محض بدنی فریضہ ہے ،یہ دعویٰ قرآن وحدیث ،اقوال فقہاء ومحدثین میں سے کہیں سے بھی ثابت نہیں ہے ۔لہٰذا کسی بھی ایک وسیلے کا انکار کرنا یا اسے دعوت سے خارج قرار دینا غیر صحیح، غیر متوازن اور غلو کے زمرے میں آتا ہے۔اس لیےاگر مذکورعالم کاواقعۃًیہی نظریہ اورسوچ ہوجوسائل نے اپنے سوال میں ذکرکیا ہے اوروہ اپنےاس دعوی کوبلاکسی تاویل اوروضاحت کے اسی طرح مانتے ہوں اوراس کاپرچارکارکرتے ہوں تویہ سراسرغلط اورقرآن وسنت کی بیان کردہ طرزفکرسے متصادم ہے جس سے رجوع اوراصلاح لازم ہے،تاہم مذکورعالم سے وضاحت طلب کیے بغیران کے کسی بیان سے ازخود نتیجہ اخذکرکے انہیں بدنی دعوت کے ماسوادعوت دین کے دیگرطریقوں کامنکرسمجھنااوران کے خلاف شورش برپاکرنابھی کسی طورپردرست طرزعمل نہیں ،جس سے احترازلازم ہے۔
کما فی سنن أبی داؤد: رجل من أهل اليمن، يقال له: أبو شاه، فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم، اكتب لي -قال العباس: اكتبوا لي- فقال رسول الله: "اكتبوا لأبي شاه" وهذا لفظ حديث أحمد. (باب ولي العمد يرضى بالدية،ج:6، ص: 558، رقم: 4506، ناشر: دار الرسالۃ العالمیۃ )-
وفی شرح النووی علی مسلم: قوله صلى الله عليه وسلم (اكتبوا لأبي شاه) هذا تصريح بجواز كتابة العلم غير القرآن ومثله حديث علي رضي الله عنه ما عنده إلا ما في هذه الصحيفة ومثله حديث أبي هريرة كان عبد الله بن عمر يكتب ولا أكتب وجاءت أحاديث بالنهي عن كتابة غير القرآن فمن السلف من منع كتابة العلم وقال جمهور السلف بجوازه ثم أجمعت الأمة اھ(باب تحريم مكة وتحريم صيدها وخلاها وشجرها، ج:9، ص: 129، ناشر: دار احیاء التراث العربی)-
وفی البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج: وقال النوويّ رحمه الله: قوله صلى الله عليه وسلم: "اكتبوا لأبي شاه" تصريح بجواز كتابة العلم غير القرآن، ومثله حديث عليّ رضي الله عنه: ما عندنا إلا ما في هذه الصحيفة، ومثله حديث أبي هريرة رضي الله عنه: كان عبد الله بن عمرو يَكْتُب، ولا أكتب، وجاءت أحاديث بالنهي عن كتابة غير القرآن، فمن السلف من منع كتابة العلم، وقال جمهور السلف: بجوازه، ثم أجمعت الأمة بعدهم على استحبابه اھ (باب تحريم مكّة، وصيدها، وخلاها، وشجرها، ولقطتها، إلَا لمنشد على الدّوام، ج: 24، ص: 465، ناشر: دار ابن الجوزی)-