کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے بارے میں کہ:
ہم لوگوں نے اپنے مدرسے کے لیے زکوٰۃ اور کھا لیں جمع کی اور لوگوں نے بھی خود زکوٰہ اور کھالیں دیں، اب وہ کھال اور زکوٰۃ کی رقم ہم نے کھالی ہے، اور ہم اس مدرسے کے طالب علم بھی ہیں، کھانا پینا رہائش مدرسے میں اور ہم مستحق بھی ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ کھانا ہمارے لیے جائز تھایا ناجائز اور ادائیگی کی کیا صورت ہے، اور اگر ناجائز ہے تو کیا صورت ہے؟
(2) ہم لوگوں نے مدرسے کے مستحق طلباء کے لیے لوگوں سے زکوٰۃ خیرات صدقات کی رقم لی ہے، اب وہ رقم کچھ طلباء کو دی ، کچھ رقم ملا کر ان طلباء کے ساتھ کھائی ہے، اور کچھ ہم اکیلے کھاگئے، ان لوگوں نے مطلقا طلباء کے لیے دی ہے، اور ہم مستحق بھی ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ رقم ہمارے لیے کھانا جائز ہے یا ناجائز ، اور اس طرح ان دونوں مسئلوں میں یہ کام کرنا صحیح ہے یا غلط ہے؟(کل رقم 1800 روپے ، دو لڑکے ہیں)۔
تنقیح: آپ دونوں کو متعلقہ مدرسہ والوں نے قربانی کی کھال یا زکوٰۃ کی رقم وصول کرنے کے لیے بطور وکیل اور نمائندہ کے بھیجا تھا، یا آپ نے اپنے طور پر دونوں چیزیں وصول کی تھیں؟
(2) اگر اپنے طور پر وصول کی تھیں یا کسی نے دی تھیں تو کیادینے والے نے مدرسہ میں دینے کے لیے کہا تھا، یا یہ کہ یہ طلباء کے استعمال کے لیے ہے؟
(3) دوسرے سوال کے شروع میں ہم لوگوں نے الخ سے کون لوگ مراد ہیں طلبہ یامدرسہ کی انتظامیہ والے؟ براہ کرام ان تنقیحات کا جواب لکھ کر اس سوال کو دوبارہ دارالافتاء بھیج دیں؟ ان شاء اللہ حکم شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔
جواب تنقیح: زکوٰۃ کے لیے ایک دفعہ وکیل مقرر کیاتھا، اور بینرز رسید کرسی ٹیبل سب کچھ دیا تھا، اور ایک دفعہ ہم نے بطور تعلقات کے مدرسہ کے لیے ایپل کی تھی، اور کھال جمع کرنے کے لیے جو علاقہ یونٹ مقرر کیا تھا، وہ علاقہ چھوڑ کر غیر علاقہ سے وصول کی جان پہچان پر، خلاصہ کلام ایک دفعہ وکیل مقرر کیا باقی تعلقات پر غیر وکیل جس کومدرسہ کے لیے کہا تھا، کہ مدرسہ کا تعاون کریں کسی بھی مد سے اس نے دیتے وقت خاموشی سے دے دیا تھا، اور جو طلباء کے لیے کہا تھا خاموشی سے دیدتھا،بس ہم نے جو کہااسی نے اسی کااعتبار کیا ، اور خاموشی سے ہم لوگوں کو دیدیا تھا، کہ طلباء پر جو پیسہ خرچ ہوگا، تو جب تک پڑھتے رہیں گے، ثواب ملتا رہے گا۔
جتنی رقم مدرسہ یا دینے والے کی طر ف سے بطور وکالت آپ کو دی گئی تھی، وہ آپ کے پاس امانت ہے اسے ضائع یا اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، بلکہ ان دونوں صورتوں میں اتنی مقدار متعلقہ مدرسہ میں جمع کرانا ضروری ہے۔
البتہ جتنی رقم آپ لوگوں نے اپنے طور پر مطلقا طلبہ یا اپنی ذات کے لیے حاصل کی ہے، اور دینے والے نے بھی فقط مطلقا طلبہ کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے خاموشی سے دیدی ہو، تو اس رقم کا استعمال اگر چہ آپ کے لیے جائز ہے، مگر یہ عادت بری ہے ایسا کرنے سے احتراز چاہیے۔
کما فی الدرالمختار: (قال) رب الوديعة (للمودع ادفع الوديعة إلى فلان فقال: دفعت وكذبه) في الدفع (فلان) وضاعت الوديعة (صدق المودع مع يمينه) لأنه أمين سراجية. الخ (5/674)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: أو مفاوضة) (الی قولہ) وأما استعمالها بلا إذن الشريك فهي مسألة مقررة مشهورة عندهم بالضمان ويصير غاصبا الخ (5/670)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1