مباحات

کوئی اگر معافی مانگے تو معاف کرنا ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
88816
| تاریخ :
2025-11-14
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کوئی اگر معافی مانگے تو معاف کرنا ضروری ہے؟

اگر کسی نے مجھے بچپن سے اتنی ذہنی جسمانی یا کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچائی ہو خاص کر جنسی،اور بعد میں وہ کہے کہ ہمیں معاف کردو،لیکن ان سب کی وجہ سے آپ کی زندگی ایسے لگے کہ رک گئی ہے،آپ کچھ بہتر نہیں کر پارہے،تو کیا مجھ پر لازم ہے کہ میں ایسے لوگوں کو معاف کردوں،چاہے وہ میرے اپنے ہوں،رشتہ دار ہو یا دوست،میں نے اپنا معاملہ انصاف کیلئے اللہ کی بارگاہ میں رکھ دیا ہے،لیکن میں بہت تکلیف میں ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں سائل کے ذمے معاف کرنا اگرچہ لازم نہیں ،اور سائل کو اس پر کوئی مجبور بھی نہیں کرسکتا ،لیکن اس کے باوجود اگر وہ معاف کردے تو بلاشبہ یہ اعلیٰ اخلاق میں سے ہے،اور بڑی فضیلت کی بات ہے جس پر احادیث مبارکہ میں دنیا وآخرت کے انعامات کی بشارت بیان کی گئی ہے،جن میں سے ایک حدیث ذیل میں درج کی جاتی ہے ،وفی الصحیح للمسلم؛ عن ابی هریرة عن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: مانقصت صدقة من مال ومازاد الله عبدا بعفو الاعزا وماتواضع احد لله الارفعه الله». ( الصحیح للمسلم، کتاب البر والصلة، باب استحباب العفووالتواضع، رقم الحدیث: ۲۵۸۸، ط: دارالفکر بیروت، لبنان۔)
ترجمہ: حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :نبی اکرمﷺ نے فرمایاکہ: صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی، اور معافی ودرگزر سے اللہ بندہ کی عزت ہی بڑھاتے ہیں، اور جو کوئی بھی اللہ کے لیے جھکتا ہے اللہ پاک اس کو بلند کردیتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی






واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88816کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات