1۔مرد اور خواتین کی نماز میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟
2۔ کیا مرد بنیان (Sandos)میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟
1۔عند الاحناف مرد و عورت کی نما زمیں تکبیر تحریمہ یا وتر میں قنوت پڑھتے وقت رفع یدین ،ہاتھ باندھنے کی جگہ، سجدہ کی ہیئت اور قعدہ کی ہیئت ،اور کیفیت میں فرق ہے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
رفع یدین : مرد اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور عورت دونوں ہاتھ سینہ تک اٹھائیں ۔
ہاتھ باندھنے کی جگہ : مرد ناف کے نیچے ہاتھ باندھے اور عورت سینہ پر ہاتھ باندھے ۔
سجدہ کی ہیئت : مرد سجدے کی حالت میں پیٹ کو رانو ں سے،بازو کو بغل سے جدا رکھے اور کہنیاں زمین سے علیحدہ رکھے اور عورت پیٹ کو رانوں سے اور بازو کو بغل سے ملائے رکھے اور کہنیوں کو زمین پر بچھا کر سجدہ کرے ۔
قعدہ کی ہیئت: مرد جلسہ اور قعدہ میں اپنا دایاں پیر کھڑا کرکے اور بایاں پیر بچھا کر کے اس پر بیٹھ جائے اور عورت اپنے دونوں پاؤں کو دائیں طرف نکال کر سرین پر بیٹھ جائے ۔
2 : مرد کا ستر (عورت غلیظہ ) چھپ جانے کے بعد کسی بھی طرح کپڑے پہن کر اس کی نماز شرعا درست ادا ہوجاتی ہے لہذا بنیان میں نماز پڑھنے سے اگرچہ اس کی نماز ادا ہوجائے گی مگر ایسے لباس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے جسے پہن کر انسان کسی بھی با وقار مجلس میں شرکت کرنا مناسب نہ سمجھتا ہو
وفی بحر الرائق:واذا اراد الدخول فی الصلاۃ نکبر ورفع یدیہ حذاء اذنیہ وروی ابن مقاتل والمراۃ ترفع حذاء منکبیھا لانہ استر لھا (باب صفۃ الصلاۃ،ج:1،ص:305،ناشر: مکتبہ رشیدیۃ)
وفی رد المحتار:ترفع یدیھا حذاء منکبیھا ،ولا تخرج یدیھا من کمیھا ،و تضع الکف علی الکف تحت ثدییھا،الی قولہ وتفترش ذراعیھا،وتتورک علی التشھد(باب صفۃ الصلاۃ، ج:1ص:504،ناشر:ایچ ایم سعید)
وفی تنویر الابصار علی الدر المختار: ( والمرأة تنخفض ) فلا تبدي عضديها ( وتلصق بطنها بفخذيها ) لأنه أستر(باب صفۃ الصلاۃ،ج:1ص: 640،ناشر:ایچ ایم سعید)
وفی الدرالمختار:( وصلاته في ثياب بذلة ) يلبسها في بيته ،( باب ما یفسد الصلاۃ،ج:١،ص:٦٤٠،ناشر: ايچ ایم سیعد)
وفی رد المحتار تحت قولہ:( وصلاته في ثياب بذلة ) وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر والظاهر أن الكراهة تنزيهية ا هـ((باب صفۃ الصلاۃ،ج:1ص: 641،ناشر:ایچ ایم سعید)