السلام علیکم ،مولوی صاحب! میری زوجہ کے نانا اور نانی کے انتقال کو تقریباً چودہ سے پندرہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، اس دوران اُن کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی دیکھ بھال ماموں کی زیرِ نگرانی رہی ہے، اسی اثناء میں تین سال قبل میری زوجہ کی والدہ بھی انتقال کر گئی ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس جائیداد میں میری زوجہ کی والدہ کا حصہ شامل ہوگا؟ اور اگر ایسا ہے تو چھ بہنوں میں یہ حصہ کیسے تقسیم ہوگا؟
نوٹ: مرحومین (نانا/ نانی) کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے تھے،پھر اُن کی ایک بیٹی کا انتقال ہوگیا، جو سائل کی ساس تھیں، اُن کے ورثاء میں سائل کی بیوی اور اُس کی پانچ بہنیں شامل ہیں، یعنی کل چھ بیٹیاں، اُن کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اور مرحومہ کے دو بھائی اور دو بہنیں تھیں۔
سائل کی بیوی کے نانا اور نانی کے انتقال کے وقت چونکہ اُن کی مذکور بیٹی (یعنی سائل کی ساس) زندہ تھیں تو شرعاً اُن کا اپنے والدین کی جائیداد میں حقِ وراثت بنتا تھا، خواہ تقسیم کئی سال بعد ہو رہی ہو۔ لہذا مرحومہ (سائل کی ساس) کا حصہ اُن کے انتقال کے بعد اُن کے موجود ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا۔(جس کی تفصیل آرہی ہے )
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحومین کا ترکہ اُن کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے، ترکے میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے اوسط اخراجات ادا کیے جائیں، اس کے بعد دیکھا جائے کہ اگر مرحومین کے ذمے کوئی واجب الادا قرض ہو تو اسے ادا کیا جائے، پھر اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کیا جائے، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل ایک سو چھبیس (126) حصے بنائے جائیں، ان میں سے مرحومین کے ہر بیٹے کو اڑتیس(38)حصے، ہر بیٹی کو انیس(19) حصے، اور ہر نواسی کو دو(2)حصے دیے جائیں، جیسا کہ ذیل کے نقشے سے بھی واضح ہے، مزید سہولت کے لیے فیصدی حصے بھی درج کر دیے گئے ہیں۔