میرا شوہر اپنے والد کے زندگی میں فوت ہوچکا ہے۔ اب میرا سسر وفات پاگیا ۔ کیا میرے بیٹے کا میرے سسر کے ترکہ میں حصہ مقرر یا ہے کہ نہیں۔ قرآن اور حدیث کے روشنی میں جاننا چاہتی ہوں۔ شکریہ
واضح ہو کہ کسی بھی مرحوم کے ترکہ میں حصہ پانے کے لیے وارث کا ترکہ چھوڑنے والے(مورث ) کی وفات کے وقت حیات ہونا ضروری ہے۔ ورنہ مورث سے پہلے انتقال ہونے کی صورت میں وہ یا اس کی اولاد مرحوم کی جائیداد میں حقدارنہ ہوگی، اس لیے اگرسائلہ کے سسر کے دیگربیٹے موجود ہوں، تو سائلہ اور اس کی اولاد اپنے مرحوم باپ(سائلہ کی شوہر) کے توسط سے سسرمرحوم کے ترکہ میں حصہ شرعیہ کے حقدار نہ ہوں گے، تاہم اگرمرحوم سسر کے عاقل بالغ ورثاء اپنی مرضی سے سائلہ اور اس کی اولاد کو کچھ دینا چاہے، تواس کا انہیں اختیارہے، تاہم ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
کما فی الفتاوی الشامیۃ:
"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه". ( كتاب الفرائض ٦/ ۷۵٦ ط:سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2