احکام وراثت

باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

فتوی نمبر :
72834
| تاریخ :
2024-04-30
معاملات / ترکات / احکام وراثت

باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

السلام علیکم! بعد سلام عرض ہے کہ ایک مسئلہ در پیش ہے آپ حضرات کی خدمت میں ، آپ حضرات نظرِ ثانی کریں۔
مسئلہ! ایک بندہ جس کا نام محمد ابراہیم ولد جہانزیب ہے، اپنی مرضی سے آج سے 14 سال پہلے گھر سے الگ ہوا اپنی بیوی بچوں سمیت، اور 14 سال بعد پھر سے والد صاحب کے گھر آیا، لیکن چند مہینے رہا اور گھر پر والد صاحب کے ساتھ تنازعہ کرنے کے بعد پھر سے چلا گیا اور اب پھر 4 سال بعد واپس آیا ہے، پہلی بار جب حضرت گھر سے گیا تھا 14 سال پہلے، اسی دوران انہی چند سالوں میں اس کے ایک بھائی کی شادی تھی، جس میں ان کے والد نے ان پر کچھ رقم مقرر کی تھی، جو انہوں نے ادا نہیں کی، اسی طرح اسی بھائی کی فوتگی پر اس نے کوئی رقم ادا نہیں کی اور اس کی بہن کی شادی تھی، اس میں بھی اس نے کوئی رقم ادا نہیں کی، یہاں تک کہ ان کے والد مرحوم کے مرنے پر بھی اس نے کوئی رقم ادا نہیں کی، جبکہ ان کے والد محترم نے ان کو اطلاع بھی کی تھی کہ ان کے ساتھ شرکت کرے، اسی طرح جب وہ پہلی بار گھر چھوڑ کر گئے تھے یعنی 14 سال پہلے تو جس گھر میں ابھی یہ حصہ لینا چاہتا ہے یہی گھر ویران تھا، کھنڈر تھا، اس کے جانے کے بعد اُس گھر کو والد صاحب اور دو بھائیوں نے تعمیر کیا ہے، اس کی صورت یہ تھی کہ ان دونوں بھائیوں کی شادیاں نہیں ہوئی تھیں تو یہ جو کچھ کماتے تھے ، لاکر والد کو دیتے تھے، کیونکہ والد کے ساتھ مشترکہ رہائش تھی اور اس وقت اس رقم کی واپسی یا قرضہ کی کوئی صراحت نہیں کی گئی تھی، کیونکہ والد کے ساتھ ہی مشترکہ سسٹم میں رہائش پذیر تھے، موجودہ گھر میں جن حضرات کا حصہ ہے ، جو حیات ہیں :بیوہ، والدہ محترمہ، محمد ابراہیم، بلال زیب ،بہن، بہن،بہن
نوٹ! جس بھائی کا انتقال والد صاحب کی حیات میں ہوا تھا، ان کی بیوہ کا بھی اس جائیداد میں کوئی حق ہے کہ نہیں؟ جبکہ اس بھائی کی کوئی ذاتی جائیداد نہیں تھی ، البتہ ایک موٹر سائیکل تھی، جو اب بھی موجود ہے، باقی بیوہ کا مہر وغیرہ ادا کر کے وہ اپنے گھر چلی گئی ہے۔
نوٹ! ابراہیم سے والد صاحب کے مطالبہ پر شادی غمی کے موقع پر تعاون نہ کرنے کی وجوہات معلوم کی تو انکا کہنا ہے کہ میں کرایہ کے گھر میں رہتا تھا، مشکل سے اپنی بیوی بچوں کا ہی خرچ پورا ہوتا تھا، اس لئے نہیں دے سکا تھا۔
نوٹ! محمد ابراہیم اور والد صاحب جہانزیب کے درمیان فیصلہ ہوا، محمد ابراہیم اکیلا رہنے پر بیس ہزار روپے ماہانہ ادا کرے گا،کیونکہ والد صاحب کے اوپر تین لاکھ اسی ہزار روپے قرض تھا،اور یہ اپنی مرضی سے جدا ہورہا ہے اور جب چاہے، واپس آسکتا ہے، ان کے گواہوں کے سامنے۔
والد صاحب جہانزیب اور محمد ابراہیم کے مابین یہ فیصلہ ہوا کہ جہانزیب کے اوپر تین لاکھ اسی ہزار کا قرض ہے، وہ تین حصوں میں تقسیم ہوگا، ایک حصہ جہانزیب ادا کرے گا، ایک حصہ محمد ابراہیم اور ایک حصہ جہانگیر ادا کرے گا،فی حصہ محمد ابراہیم ایک لاکھ پچیس ہزارروپے ہے، وہ ابراہیم ادا کرے گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق جب مذکور دونوں بیٹے اپنے والد مرحوم کے ساتھ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے رہے اور اپنی آمدنی لا کر والد صاحب کو دیدیا کرتے تھے تو والد صاحب اس رقم کے مالک بن جاتے تھے، چنانچہ جب مرحوم والد نے مذکور مکان پر تعمیر کی تو یہ تعمیر والد مرحوم کی ملکیت شمار ہو کر ان کے انتقال کی صورت میں مذکور پورا گھر تمام ورثا میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، جبکہ جس بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوگیا تھا تو اس کا اور اس کی بیوہ کا مرحوم والد کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں، البتہ مرحوم بیٹے کی جو ذاتی جائیداد ہے، وہ بیوہ سمیت دیگر ورثاء ( والدین ) میں تقسیم ہوگی، جہاں تک والدِ مرحوم اور محمد ابراہیم کے درمیان قرض کی ادائیگی کے معاہدہ کی بات ہوئی ہے ، تو اگر محمد ابراہیم نے ایک لاکھ پچیس ہزار روپے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی ، تو محمد ابراہیم پر اپنے معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے والدِ مرحوم کا قرضہ ادا کرنا لازم ہے۔
کما فی ردالمحتار تحت( قولہ: وما حصلاہ الخ ) مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية ( الی قولہ ) ثم هذا في غير الابن مع أبيه؛ لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له الخ ( ج4 ص 325 ط: سعید )۔
اس کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو ، تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1 ) کی حد تک اس پر عمل کر یں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل آٹھ حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو ایک (1) ، دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو (2) اور ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72834کی تصدیق کریں
1     1719
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 1
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات