کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، ورثاء میں بیوہ ، سات بیٹے، اور تین بیٹیاں موجود ہیں، والد صاحب کا کل ترکہ ایک کروڑ پچاس لاکھ اسی ہزار روپے ہے، ترکہ مذکور بالا ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
سائل کے والد مرحوم کے ورثاء اگر فقط مذکور فی السوال ہوں، ان کے علاوہ اور کوئی وارث موجود نہ ہو اور حقوق متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط اخراجات ،واجب الاداء قرضوں اور بیوہ کے حق مہر(اگر ادا نہ کیا ہو) کی ادائیگی اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل) کی ادائیگی کے بعد ترکہ میں یہی رقم ایک کروڑ پچاس لاکھ اسی ہزار(15080000) بچتی ہو ، تو مذکور رقم میں سے بیوہ کو اٹھارہ لاکھ پچاسی ہزار(1885000) روپے، بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو پندرہ لاکھ باون ہزار تین سو باون(1552352) روپے، اور ہر بیٹی کو سات لاکھ چھتر ہزار ایک سو چھتر(776176) روپے دیئے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2