بخدمت جناب مفتیانِ کرام دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ
صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ میں روبینہ بنتِ محمد طارق خان زوجہ محمد لطیف ہوں ، ہم دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں، میری چھوٹی بہن کے انتقال کی اطلاع مجھے 6 نومبر کو فون پر ملی ،کہ وہ اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں ملی ہے، یہ مجھے میرے بھائی نے بتایا تھا ، ہمارے والدین کا پندرہ سال قبل انتقال ہو گیا تھا ، والد کو کینسر ،جبکہ والدہ کو جگر کا مسئلہ تھا ، اس لئے انہوں نے اپنی زندگی میں ہم تینوں کو پیسے، زیور ،اور استعمال کے بر تن دے دیے تھے ، ہم جس گھر میں شروع سے رہتے تھے ، وہ ہماری نانی نے ہماری والدہ کو دیا تھا ، اور والدہ چونکہ اکلوتی تھی،سو انہوں نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ گھر ہم تینوں کا ہے، والدہ کا انتقال پہلے ہوا ،اور والد کا بعد میں ،جب والد کی زندگی میں بھائی نے اپنے کاروبار کےلئے ہم دونوں بہنوں کے بینک کے پیسے جو والد نے جہیز کے لئے رکھے تھے ، یہ کہہ کر لے لیے کہ جب کاروبار ٹھیک ہو گا ، تو واپس کر دے گا ، لیکن تب انہوں نے میری شادی کروا دی ، اور گھر داماد ر کھا ، کچھ عرصے بعد دونوں بہن بھائیوں نے گھر بیچنے کا کہا ، یہ سال 2009 کی بات تھی ،قیمت زیادہ تھی ، لیکن مجھے صرف نو لاکھ ساٹھ ہزار دیے کہ بس تمہارا اتنا ہی بنتا ہے ، چھوٹی بہن نے گھر کے حصے کے پیسوں سے اپنا فلیٹ لے لیا ،اور تنہا رہنے لگی ، 14 نومبر 2023 کو مجھے میرے بھائی نے کال کر کے بتایا کہ بہن کے فلیٹ سے گھر کے ڈاکومنٹس تلاش کرتے ہیں،تم بھی آجاؤ ، 15 نومبر کو میں اپنے بیٹے کے ساتھ اور میرابھائی ناصر اپنے بیٹے کے ساتھ اس فلیٹ میں گئے ، بہن جس طرح رہتی تھی ، اسکے برعکس اسے فلیٹ میں والدین کے زمانے کے تمام بر تن ، کپڑے اور بے تحاشا نئے اور بغیر سلے کپڑے رکھے تھے ، ساتھ ہی اسکے فلیٹ سے عملیات کے ،عیسائیت کے ، ہندوانہ عبادات کی چیزیں ملی ہیں، میر ا ماننا ہے کہ بہن کے زیورات شاید پہلے سے نکال لیے ہونگے،کا غذات تلاش کرتے ہوئے الماریوں کی چیزیں بھی ہٹانی پڑی ہیں ، میرے بھائی نے کاغذات اپنے پاس رکھ کر مجھے اور میرے بیٹے کو کہا ، چونکہ یہ فلیٹ ناپاک ہے، سو میں بھی حمام میں نہانے جا رہا ہوں ، تم لوگ بھی کہیں جا کر نہا لو ، اسکے بغیر ہم اپنے گھر نہیں جاسکتے ، میں اپنی دوست کے گھر آگئی ، اور نہانے کے بعد بھائی کو کال کیا کہ مجھے کا غذات کی کاپیز دیں ، تو وہ غصہ ہوئے کہ اب مجھے کال مت کرنا ، جب دوبارہ کال کیا ، تو گالیاں دینے لگا کہ جو شریعت میں ہوگا میں دونگا ، لیکن بھائی کا کوئی اعتبار نہیں ہے، آپ سے التماس ہے کہ مجھے شریعت کی رو سے میر ا حصہ بتائیں،تاکہ میں اسے حاصل کرنے کیلئے قانونی اور شرعی راستہ اختیار کروں ۔
نوٹ : سائلہ کے سوال کرنے کا بنیادی مقصد صرف اتنا ہے کہ اسکی مرحومہ بہن جو کہ فلیٹ میں مردہ حالت میں پائی گئی تھی ، اس نے ترکہ سے ملنے والی رقم سے جو فلیٹ خریدا تھا ، اس میں میرا کتنا حصہ بنتا ہے؟ وضاحت فرما دیں۔
سائلہ کی مرحومہ بہن نےوالدِ مرحوم کے ترکے میں سےملنی والی رقم سے جو فلیٹ خریدا تھاوہ شرعاً اس کی ملکیت تھا،چنانچہ اب سائلہ کی مرحومہ بہن کی وفات کے بعد اس کے دیگر ترکے کی طرح مذکور فلیٹ بھی سائلہ اور اس کے بھائی کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ،لہذا سائلہ کے بھائی کے لئے مرحومہ بہن کے ترکے سے سائلہ کو اس کے شرعی حصہ سے محروم کرنا شرعاً درست نہیں ،بلکہ یہ غصب پر مبنی عمل ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے ،جس کی وجہ سے سائلہ کا بھائی گناہ گار ہو رہا ہے،لہذا اس پر لازم ہے کہ سائلہ کو اس کا شرعی حصہ دے کر اخروی پکڑ سے سبکدوشی کی فکر کرے ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2