میری تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں , میں کاروبار میں اپنے بھائی کے ساتھ برابر کا شریک ہوں ، میرے دونوں بیٹے کاروبار میں ملازمت کی مد میں ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں ، میں کاروبار کی جگہ جو میرے حصہ میں آتی ہے ، اپنے بیٹوں کے نام کر چکا ہوں ، میرے نام پر کچھ مال اور جائیداد مزید ہے، جسکی مالیت کاروبار والی جگہ کی نسبت بہت کم ہے ،میں زندگی میں تمام جائیداد کیسے تقسیم کروں جو عین شریعت کے مطابق ھو۔ اور کیا میں بیٹیوں کو کم مالیت کی جگہ یا رقم دے گر ان سے معافی نامی لے سکتا ھوں تاکہ آخرت میں سرخرو ھو سکوں۔
جواب کا قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیل سے بتا دیں ، اور اگر ممکن ھو تو اس پر بھی راہ نمائی کر دیں کے زندگی میں تقسیم کا کیا اصول ھو گا اور زندگی کے بعد کیا اصول ھو گا
شکریہ
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے، کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے،البتہ اگرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبرواکراہ محض اپنی مرضی وخوشی سےاپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیارہے، اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ) کا کہلائیگا۔ جس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لۓ جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اگربیوی کو کچھ دینا چاہےوہ انہیں دیکر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں، بیٹیوں) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًبھی درست اور تام ہوسکے ،محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں ، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے، کہ گناہ کی بات ہے۔
فی مشکاۃ المصابیح : و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في رواية قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»'۔اھ ((1/261باب العطایا، ط: قدیمی)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2