کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں سب وائل یعنی کہ زمین سے پانی نکال کر کنویں اور بورنگ کے ذریعے اسے فروخت کرتا ہوں۔
اب اگر میں واٹر بورڈ سے لیگل طریقے سے کنکشن لیتا ہوں اور اس کا چالان فیس وغیرہ باقاعدگی سے جمع کراتا ہوں، چالان اور بل کی ادائیگی کے علاوہ کنکشن آسانی سے حاصل کرنے کیلئےکچھ اضافی رقم بھی ادا کرتا ہوں،اور پھر اس پانی کو کھارا پانی سے ملاکر اس پانی کا نمبر بن جاتا ہے، اور ہم اسے فروخت کرتے ہیں،کیا یہ کنکشن لینا جائز ہے؟یہ بھی واضح رہے کہ ہماری معلومات کے مطابق انڈسٹری کو دیئے جانے والا پانی کا کوٹہ متعین ہے، اور بظاہر اس مقدار سے زائد پانی انڈسٹری کے نام دیدیا جاتا ہے، جس سے عوام کو دیا جانے والا کوٹہ متاثر ہوتا ہے۔
نوٹ: گورنمنٹ (واٹر بورڈ) میں عام صارفین اور انڈسٹریز کیلئے پانی کی تقسیم کا کوٹہ ہے، جو انہیں معلوم ہے۔
سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق اگر سائل اپنی مملوکہ یا کسی سے کرائے پر لی ہوئی زمین میں اس کے مالک کی اجازت اور قانونی اجازت نامہ حاصل کر کے بورنگ کے ذریعےپانی نکالتا ہے، اور اس پانی کو جائز طریقہ کار کے مطابق پروسس سے گزارتے ہوئے اسے استعمال کے قابل بناکر فروخت کرتا ہے،تو شرعاً ایسے پانی کی فروخت درست ہے،جبکہ واٹر بورڈ کا سائل کو کنکشن فراہم کرنے کی مقررہ فیس اور پانی کے استعمال کی مد میں طے شدہ رقم وصول کرنا جائز ہے، البتہ ادارے کے افراد میں سےکسی فرد کیلئے کنکشن کی مقررہ فیس اور بل وغیرہ کی مد میں مقررہ رقوم کے علاوہ غیر قانونی طور پر اضافی رقم لینا رشوت کےزمرے میں آنے کی وجہ سےشرعاً ناجائز اور حرام ہے اور احادیث مبارکہ میں رشوت دینے اور لینے والے کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا واٹر بورڈ کے افراد میں سے کسی فرد کیلئے قانونی طور پر طے شدہ رقوم کے علاوہ لوگوں سے اضافی رقم وصول کرنا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ مذکور ادارے کے افراد میں سے اگر کوئی فرد واقعۃً ” انڈسٹریل“ ایریا کو کسی قانونی جواز کے بغیر غیر قانونی طور پر مقررہ کوٹے سے زیادہ پانی فراہم کرتا ہو، جس کی وجہ سے عام لوگوں کو تکلیف اور ضرر کا سامنا ہو (جیسا کہ سوال سے معلوم ہو رہا ہے) تواس کیلئے قانون کی خلاف ورزی اور لوگوں کو ضرر پہنچانے کی وجہ سے ایسا کرنا درست نہیں،جبکہ ایسے شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے۔
کما فی المستدرک علی الصحیحین: عن ثوبان رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال لعن اللہ الراشی و المرتشی و الرائش ألذی یمشی بینھما ( کتاب الأحکام ج: 5، ص:32، ط: دار الفکر)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: عن ابی حرہ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہﷺ ألا لا تظلموا ألا لایحل مال امرئ الا بطیب نفس منہ الخ (باب الغصب والعاریۃ، ج1، ص255، ظ:قدیمی)۔
وفی جامع الترمذی: عن أبی صرمۃ أن رسولﷺ من ضارّ ضاراللہ بہ ومن شاق شاق اللہ بہ الخ (باب ماجاء فی الخیانۃ والغش، ج1، ص754، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)۔
وفی إعلاءا لسنن : عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہﷺ لعنۃ اللہ علی الراشی والمرتشی الخ
وتحتہ: وقال ابن حزم فی المحل ولا تحل الرشوۃ وھی ما أعطاہ المرأ لیحکم لہ بباطل أو لیولی ولایۃ أو لیظلم لہ انسان فھذا یأثم بہ المعطی والآخذ الخ (باب الرشوۃ، ج15، ص59۔ ط: ادارۃ القرآن والعلو الاسلامیۃ)۔
وفی أحکام القرآن للجصاص: والرشوۃ تنقسم إلی وجوہ منھا الرشوۃ فی الحکم وذلک محرم علی الراشی والمرتشی جمیعا وھو الذی قال فیہ النبی صلی اللہ علیہ و سلم لعن اللہ الراشی والمرتشی والرائش ألذی یمشی بینھما فذالک لا یخلومن أن یرشوہ لیقضی لہ بحقہ أو بما لیس بحق لہ الخ ( باب الرشوۃ ج: 2، ص؛ 432، ط؛ سہیل اکیڈمی )۔
وفی شرح المجلۃ : ولہ ان یعمل فیھا کل عمل لا یورث الوھن والضرر والبناء لکن لیس لہ ان یفعل ما یورث الضرر والوھن الا باذن صاحبھا الخ
وتحت ھذہ المادۃ : أی مالکھا کما فی التنویر وغیرہ فلیس لہ ان یعمل الحدادۃ والقصارۃ والطحن، أی بغیر رحی الید علی ماتقدم فیھا من التفصیل ولا أن یسکن حدادا أو طحانا من غیر رضی المالک قال الزیلعی فحاصلہ کل ما یوھن البناء أو فیہ ضرر لیس لہ ان یعمل فیھا الا باذن صاحبھا الخ (الفصل الاول فی بیان مسائل تتعلق باجارۃ العقار، ج2، ص619، ط: حقانیۃ)۔
وفی الھندیۃ : لا یجوز بیع الماء فی بئرہ ونھرہ ھکذا فی الحاوی وحیلتہ أن یؤاجر الدلو والرشاء ھکذا فی محیط السرخسی فاذا أخذہ وجعلہ فی جزۃ أو ما أشبھھا من الاوعیۃ فقد احرزہ فصار أحق بہ فیجوز بیعہ والتصرف فیہ الخ (الفصل السابع فی البیع الماء الخ، ج3، ص121، ط: ماجدیۃ)۔