مباحات

کیا تقسیم ترکہ کے وقت زمینوں کی قیمتوں کی کمی زیادتی کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ؟

فتوی نمبر :
88756
| تاریخ :
2025-11-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کیا تقسیم ترکہ کے وقت زمینوں کی قیمتوں کی کمی زیادتی کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں۔ صورت حال یہ ہے کہ ہمارےوالد صاحب کو فوت ہوئے 15 سال ہو چکے ہیں، والدہ صاحبہ کا انتقال پہلے ہی ہو گیاتھا۔ والد صاحب کے نام ساڑھے سات ایکڑ رقبہ تھا جو دو حصوں میں ہے۔ پانچ ایکڑ فرنٹ، یعنی روڈ پر ہے اور اڑھائی ایکڑ پیچھے ہے۔ جس کو راستہ بھی نہیں اور دونوں حصوں کی قیمت میں بہت زیادہ فرق ہے۔ ہم سات بھائی اور ایک بہن ہے۔ کچھ بھائیوں کا قبضہ فرنٹ پر ہے اور کچھ کا پیچھے ہے، کیا وراثت سب بھائیوں کو برابر ملے گی یا جسکا جہاں قبضہ ہے،وہ اس کا مالک ہے؟ اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ میت کی تمام جائیداد سب ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے، کسی ایک وارث کا کسی حصہ پر قبضہ شرعاً اس کی ملکیت ثابت نہیں کرتا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم کی تمام جائیداد خواہ وہ فرنٹ کے پانچ ایکڑ ہوں یا پیچھے کی ڈھائی ایکڑزمین، سب ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہے جو ان کے حصصِ شرعیہ کے مطابق ان کے درمیان تقسیم ہوگی، مذکور زمین چونکہ دو کیفیتوں ( مہنگی و کم قیمت ) میں ہے، اس لیے اس کی تقسیم کرتے وقت اس کی مالیت کو ملحوظ رکھنا لازم و ضروری ہے، صرف ایکڑکے اعتبار سے تقسیم صحیح نہ ہوگی، چنانچہ فرنٹ، بیک جس کے قبضہ میں بھی ہوسب ورثاء شرعاً پوری جائیداد کے حقدار ہیں، تاہم اگر کوئی بھائی تنہا فرنٹ حصہ لینے کا خواہشمند ہواور دیگر بھی اسے دینے پر آمادہ ہو تو وہ باقی سب ورثاءکو ان کے مالی حصے کی ادائیگی کرکے رکھ سکتاہے، دیگر ورثاء کو اس حصہ سے محروم کرکے تنہا اس کی ملکیت کا دعوی کرنادرست نہیں جس سے احتراز چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی شرح المجلۃ : المادۃ 1092- کما أن أعیان المتوفی المتروکۃ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصھم کذلک یکون الدین الذی لہ فی ذمۃ شخص مشترکاً بینھم علی حسب حصصھم إلخ ( الکتاب العاشر : فی انواع الشرکات، ج 4 ، ص 27 ، ط دار الکتب العلمیۃ )-
و فی الدر المختار : لا یجوز التصرف فی مال غیرہ بلا إذنہ ( کتاب الغصب ، ج 9، ص 291 ، ط دار الکتب العلمیۃ )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88756کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات