محترم مفتیانِ کرام، السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ایک شرعی مسئلے میں رہنمائی درکار ہے۔
میں ایک میڈیسن ویئر ہاؤس میں کام کرتا ہوں، جہاں مختلف ادویات کے کارٹن رکھے ہوتے ہیں (جیسے 25?xtrose، Pan-Amin G، Aminovale وغیرہ، اور دیگر دوائیں)۔
ہم اکثر ان کے خالی کارٹن پھاڑ کر زمین پر بچھا کر نماز پڑھتے ہیں، جبکہ بعض افراد اپنے مصلیٰ پر یا بالائی منزل میں موجود جائے نماز پر نماز ادا کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ادویات کے خالی کارٹن بچھا کر اُن پر نماز پڑھنا شرعاً درست اور جائز ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
ادویات کے خالی کارٹن اگر پاک ہوں اور اس پر ظاہری کوئی ناپاکی نہ لگی ہو تو اس پر نماز پڑھنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
«مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح» (ص137):
"ولا بأس بالصلاة على الفرش والبسط واللبود" إذا وجد حجم الأرض ولا بوضع خرقة يسجد عليها اتقاء الحر والبرد والخشونة الضارة "والأفضل الصلاة على الأرض" بلا حائل "أو على ما تنبته" كالحصير والحشيش في المساجد وهو أولى من البسط لقربه من التواضع "»