میں دو سال سے ہالینڈ کی ایک یونیورسٹی میں ظہر اور عصر کی نمازباجماعت ساتھیوں کو پڑھا دیتا ہوں رکوع سے قومہ میں جاتے ہوئے ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ جہرا پڑھ کر ہی ’’ربنا لک الحمد‘‘ سراً پڑھ لیتا تھا۔ اب بہشتی گوہر میں پڑھا ہے کہ امام کو صرف ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ جہراً پڑھنا چاہیے، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں نے جو نمازیں اس طریقے سے نہیں پڑھائیں اُن کا کیا حکم ہے؟
اگرچہ تمام نمازیں بلاشبہ درست اور صحیح ادا ہو گئی ہیں اور ان کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔البتہ امام ہونے کی صورت میں آئندہ صرف’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے۔
ففی التنویر الابصار: (ثم يرفع رأسه من ركوعه مسمعا ويكتفي به الإمام) اھ(1/ 496)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وقالا يضم التحميد) هو رواية عن الإمام أيضا، وإليه مال الفضلي والطحاوي وجماعة من المتأخرين معراج عن الظهيرية واختاره في الحاوي القدسي، ومشى عليه في نور الإيضاح، لكن المتون على قول الإمام (قوله ثم حذف اللهم) أي مع إثبات الواو، وبقي رابعة وهي حذفهما والأربعة في الأفضلية على هذا الترتيب كما أفاده بالعطف بثم اھ (1/ 497)