کیا میں کسی ایسے شخص کو زکوٰۃ دے سکتا ہوں، جس کے پاس گھر ہو اور اس کے پاس زمین کی جائیداد ہو لیکن وہ بے روزگار ہو، اور مالی مسائل کا شکار ہو، وہ اپنی زمین فروخت نہیں کر سکتا کیونکہ اس علاقے میں کوئی بھی جائیداد نہیں خرید رہا ہے اور وہ کم قیمت پر فروخت نہیں کرنا چاہتا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور شخص کے پاس گھر اورضرورت ( یعنی کاشتکاری وغیرہ ) کی زمین کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونایا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی، مال تجارت اور ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو، تو وہ مستحقِ زکوٰۃ ہے، اور اس کو زکوۃ کی رقم دینا شرعاً درست ہے۔
کما فی الدر المختار : أی مصرف الزکاۃ والعشر (إلی قولہ) (ھو فقیر، ھو من لہ أدنیٰ شیئ) أی دون النصاب غیر نام مستغرق فی الحاجۃ الخ
وفی الشامیۃ تحت : ( قولہ مستغرق فی الحاجۃ ) کدار السکنی وعبید الخدمۃ وثیاب البدن وألات الحرفۃ وکتب العلم للمحتاج الیھا تدریسا او حفظا او تصحیحآً الخ ( باب المصرف، ج2،ص339، ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ : ویجوز دفعھا الی من یملک أقل من النصاب وان کان صحیحا مکتسبا کذا فی الزاھدی الخ
وفیھا ایضاً : وکذا لو کان لہ حوانیت أو دار غلۃ تساوی ثلاثۃ آلاف درھم وغلتھا لا تکفی لقوتہ وقوت عیالہ یجوز التصرف الزکاۃ الیہ الخ (الباب السابع فی المصارف، ج1،ص189، ط: ماجدیۃ)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1