السلام علیکم! برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں کہ نمازیں پڑھنے کا مکروہ ٹائم کون سا ہے؟ اور وہ کون سا وقت ہے جس میں ہم کوئی بھی نماز نہیں پڑھ سکتے ؟ نمازِ اشراق اور نمازِ چاشت کیا ہے؟ اور ان کا وقت کون سا ہے اور کیسے پڑھے جاتے ہیں؟ اوابین کے نوافل کیا ہیں جو نمازِ مغرب کے بعد پڑھے جاتے ہیں؟ ان کی تعداد کتنی ہے اور کس طریقے سے یہ نماز ادا کی جاتی ہے؟ اور یہ نماز کیوں ادا کی جاتی ہے؟ اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ آپﷺ نے پیاز ، مولی اور لہسن کو پسند نہیں کیا ،اور آپﷺ نے کبھی ان چیزوں کو کھایا بھی نہیں ہے، کیا یہ سچ ہے کہ نہیں؟
پانچ اوقات ایسے ہیں جن میں نوافل پڑھنا مکروہ ہے، جن میں سے طلوعِ صبحِ صادق سے طلوع آفتاب تک ، اور عصر سے غروب آفتاب تک کے اوقات میں، نوافل کے علاوہ نمازیں، سجدۂ تلاوت اور نمازِ جنازہ پڑھی جا سکتا ہے، جبکہ عین طلوعِ آفتاب، عین غروب اور زوال کے اوقات میں مذکور تمام امور بھی مکروہ ہیں۔
طلوعِ آفتاب کے دس پندرہ منٹ بعد دو سے چار رکعت پڑھنے کو اشراق اور نمازِ اشراق سے ایک گھنٹہ کے بعد سے لےکر زوال تک دو رکعات سے بارہ رکعات تک پڑھنے کو چاشت کہتے ہیں اور نمازِ مغرب کے بعد چھ سے بیس رکعات تک جو نوافل پڑھے جاتے ہیں وہ اوابین کہلاتے ہیں اور ان کے پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو عام نمازوں کا ہے،جبکہ آپﷺ نے اس کی ترغیب دی ہے، اس لۓ یہ نماز پڑھی جاتی ہے۔
آپﷺ کے پاس چونکہ فرشتوں کی آمد ہوتی تھی جو بدبو کو ناپسند فرماتے ہیں، اس لۓ پیاز ، لہسن وغیرہ بدبودار اشیاء کے کھانے کو آپﷺ پسند نہیں فرماتے تھے، مگر اس کو حرام قرار نہیں دیا، بلکہ صحابہؓ کو کھانے کی اجازت دی ہے۔
فی الهدایة : لا تجوز الصلاة عند طلوع الشمس و لا عند قيامها في الظهيرة و لا عند غروبها " لحديث عقبة بن عامر رضي الله عنه قال ثلاثة أوقات نهانا رسول الله عليه الصلاة و السلام أن نصلي فيها و أن نقبر فيها موتانا عند طلوع الشمس حتى ترتفع و عند زوالها حتى تزول و حين تضيف للغروب حتى تغرب اھ (۱/ ۸۵)۔
و فیها أیضاً : و يكره أن يتنفل بعد الفجر حتى تطلع الشمس و بعد العصر حتى تغرب " لما روي أنه عليه الصلاة والسلام نهى عن ذلك " و لا بأس بأن يصلي في هذين الوقتين الفوائت و يسجد للتلاوة و يصلي على الجنازة "(إلی قوله)" و يكره أن يتنفل بعد طلوع الفجر بأكثر من ركعتي الفجر " لأنه عليه الصلاة و السلام لم يزد عليهما مع حرصه على الصلاة " اھ (۱/ ۸۶)۔
و فی سنن الترمذي : عن أنس ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صلى الغداة في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس ، ثم صلى ركعتين كانت له كأجر حجة و عمرة ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: تامة تامة تامة . اھ (1/ 727)۔
و فی الدر المختار : (و) ندب (أربع فصاعدا في الضحى) على الصحيح من بعد الطلوع إلى الزوال و وقتها المختار بعد ربع النهار . و فی المنية : أقلها ركعتان و أكثرها اثني عشر، و أوسطها ثمان و هو أفضلها اھ (2/ 22)۔
و فی حاشیة الطحطاوی : و ندب ست رکعات بعد المغرب لقوله علیه السلام من صلیٰ بعد المغرب ست رکعات کتب من الأوابین اھ (ص: ۲۱۳)۔
و فی سنن الترمذي : جابر بن سمرة يقول : نزل رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي أيوب ، و كان إذا أكل طعاما بعث إليه بفضله ، فبعث إليه يوما بطعام و لم يأكل منه النبي صلى الله عليه و سلم ، فلما أتى أبو أيوب النبي صلى الله عليه و سلم ، فذكر ذلك له ، فقال النبي صلى الله عليه و سلم : فيه ثوم ، فقال : يا رسول الله ، أحرام هو؟ قال : لا ، و لكني أكرهه من أجل ريحه . هذا حديث حسن صحيح . اھ (3/ 319)۔
و فی حاشیته : و فی معناه کل ماله رائحة کریهة باقیة بعد الأکل کالبصل و الفجل شرح موطا للقاری (ایضا) و فیه ایضا : نهی عن أکل الثوم إلا مطبوخا الحدیث (ایضا)