کیا ایسی صورت میں نماز توڑنا چاہیے مثلاً ایک شخص عصر پڑھ رہا ہے اور مغرب کی اذان شروع ہوگئی، تو اُسے نماز توڑنا چاہیے یا نہیں؟ اور اگر اُس نے پڑھ لی تو اس کو دوبارہ پڑھنا پڑھےگی یا اس کی نماز ادا ہو جائےگی؟
اس شخص کو چاہیے کہ اپنی وقتی عصر کی نماز جاری رکھے اور اس صورت میں اس کی نماز ادا ہو جائےگی دوبارہ اعادہ کی ضرورت نہیں۔
ففی الدر المختار: (وكره) تحريما، وكل ما لا يجوز مكروه (صلاة) مطلقا (ولو) قضاء أو واجبة أو نفلا أو (على جنازة وسجدة تلاوة وسهو (إلی قوله) (وغروب، إلا عصر يومه) فلا يكره فعله لأدائه كما وجب اھ (1/ 370)
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: لأدائه كما وجب) لأن السبب هو الجزء الذي يتصل به الأداء، وهو هنا ناقص فقد وجب ناقصا فيؤدى كذلك. وأما عصر أمسه فقد وجب كاملا اھ (1/ 372)