السلام علیکم! مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ یہاں لندن میں الگ الگ ایریا کی مساجد میں اوقاتِ نماز ، سحرو افطار مختلف ہوتے ہیں، ہم جس مسجد کو فالو کرتے ہیں، وہ ہمارے ایریا میں نہیں ہے، تھوڑا دور ہے، (۱۵ منٹ کی ڈرائیو پر ہے دیوبندیوں کی مسجد ہے) براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیۓ؟یا کیا احوط ہے؟ (سب سے زیادہ مسئلہ سحر، افطار کا ہوتا ہے، ہماری مسجد جس کو ہم فالو کرتے ہیں اس کا وقتِ سحر رات "۱:۳۰" پرہو جاتا ہے، پر دوسری مساجد میں ۳ بجے ہوتا ہے) اور اشراق و چاشت کی نمازوں کا وقت بھی نماز کے کیلنڈر میں نہیں ہوتے تو کیا کیا جائے؟ براہِ کرام راہ نمائی فرمائیں۔
روزے میں سحر و افطار کا تعلق طلوعِ صبح صادق اور غروبِ آفتاب کے ساتھ ہے، اس میں کوئی مسلکی فرق نہیں، جبکہ اشراق و چاشت سورج نکلنے کے کم از کم دس منٹ بعد پڑھے جا سکتے ہیں، مگر اشراق تھوڑی جلدی اور چاشت تھوڑا سورج تیز ہونے کہ بعد پڑھنی چاہیۓ۔
في الفقه الحنفى و أدلته : وقت الفجر الصبح و هو حمرة الشمس في سواد الليل و هو بياض المعترض فى الأفق و هو طرف السماء لا المستطيل فانه يظهر كذنب السرحان ثم يختفى ولذا سمى فجرا کاذبا و غروبها إذا غربت الشمس اھ (۱ / ۱۳۲)۔
و فی حاشية ابن عابدين : و من كان على مكان مرتفع كمنارة إسكندرية لا يفطر ما لم تغرب الشمس عنده و لأهل البلدة الفطر إن غربت عندهم قبله اھ (2/ 420)۔
و في حاشية ابن عابدين : (قوله : مع شروق) و ما دامت العين لا تحار فيها في حكم الشروق كما تقدم في الغروب أنه لا يصح كما في البحر ح. أقول : ينبغي تصحيح ما نقلوه عن الأصل للإمام محمد من أنه ما لم ترتفع الشمس قدر رمح فهي في حكم الطلوع ؛ لأن أصحاب المتون مشوا عليه في صلاة العيد حيث جعلوا أول أوقاتها من الارتفاع و لذا جزم به هنا في الفيض و نور الإيضاح. (1/ 371)۔
و فی الدر المختار : (و) ندب (أربع فصاعدا في الضحى) على الصحيح من بعد الطلوع إلى الزوال و وقتها المختار بعد ربع النهار. (2/ 22)۔