السلام علیکم: میں محمد حارث خان ہوں میں کویت میں ایک تعمیراتی کمپنی میں کام کرتا ہوں اور دفتری مصروفیات کی وجہ سے مسجد میں نماز ادا نہیں کرتا دراصل مجھے فجر کی نماز سے متعلق ایک فتویٰ چاہئے ہم 12، 13 آدمی ایک جگہ نماز پڑھتے ہیں آج صبح ایک آدمی آیا اور فرض نماز امام کے ساتھ ادا کرنے کے بعد اس نے دو رکعت سنت ادا کی، کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا کہ اس طرح شریعت میں نہیں ہے؟
فجر کی چھوٹی ہوئی سنتوں کو فرض نماز کے فوراً بعد طلوع آفتاب سے پہلے پڑھنا مکروہ ہے اس سے احتراز چاہیے ۔ البتہ اسی دن طلوع آفتاب کے بعد سے زوال تک پڑھ سکتے ہیں اس کے بعد نہیں ۔
کما في الهندية: والسنن اذا فاتت عن وقتها لم يقضها الا ركعتي الفجر اذا فات مع الفرض يقضيهما بعد طلوع الشمس الى وقت الزوال ثم يسقط - ( جلد ۱ ص ۱۱۲)