میرے دو بچے ہیں ، عمر 5 اور 4 سال ، بیٹا اور بیٹی ہے۔ میں شدید قسم کی ڈپریشن کا شکار ہوں، علاج بھی ہو رہا ہے ،اس دوران حمل ہوگیا ہے ،اب حال یہ ہے کہ میں دوائی کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ anxiety(پریشانی) اتنی کہ کنٹرول سے باہر ہے،ڈپریشن سے ویسے بچے مار کھا رہے ہیں،خود کو نقصان پہنچا رہی ہوں مارنے کا، خود کو ختم کردینے کے خیال آرہے ہیں،کیا ایسی حالات میں حمل کو ختم کرنا صحیح ہوگا؟حمل چار ہفتے کا ہے۔
واضح ہو کہ محض ڈپریشن ہونا شرعاً کوئی ایسا عذر نہیں کہ جس کی وجہ سے حمل ضائع کرنا شرعاًجائز ہوجائے،بلکہ اس کا مناسب علاج معالجہ موجود ہے اور سائلہ کو اس کا اہتمام بھی چاہیئے ،البتہ یہ بیماری اگر اس قدر سنگین نوعیت اختیار کر لے کہ اس حالت میں حمل بر قرار رکھنے کی وجہ سے ما ں یا حمل کی جان کو خطرہ ہو یا اس بیماری کے مزید طویل ہونے یا زیادتی کا یقینی اندیشہ ہو، اور ماہر مسلمان دیندار طبیب بھی حمل ضائع کرنے کی رائے دے، تو ایسی صورت میں چار ماہ سے پہلے پہلے اس حمل کے ضائع کرنے کی گنجائش ہوگی ،جبکہ حمل میں جان پڑجانے کے بعد جس کی مدت عموماً چار ماہ ہوتی ہے، بہر صورت حمل ضائع کرنا جائز نہ ہوگا، بلکہ ایک زندہ انسان کے قتل کے حکم میں ہوگا، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: تحت (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح الخ ( کتاب النکاح، ج: 3، ص: 176، ط: سعید )۔