کیا فرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک خاندان کیساتھ کسی معاملہ میں معاہدہ ہوا تھا کہ فلاں مسئلہ حل کریں گے اور سب مل کر مالی جانی حصہ لیں گے یہاں تک سب اس خاندان کے تمام مردوں نے تین طلاقوں کو اسی کام یعنی حصہ لینے کیساتھ مشروط کیا ۔اور ہر ایک نے یہ کہا کہ اگر ہم نے حصہ نہیں لیا تومیری بیوی کو تین طلاقیں۔ اور ماچس کی تین تیلیاں پھینک کر تین تین طلاقیں ہر ایک نے مشروط کیں ۔ بعد میں سب پیچھےہٹ گئے۔ بیس پچیس سال گزرنے کے بعد بھی کسی نے مالی وجانی حصہ نہیں لیا ۔ اب ہماری پوری قوم یعنی تحصیل آلائی سے تعلق رکھنے والے افراد ایک زمین قبرستان کے لیے مشترکہ طور پر خرید رہے ہیں اورہر فرد سے دس ہزار روپے ممبر شپ کے وصول کیے جارہے ہیں۔ جس میں وہ خاندان بھی حصہ لے چکے ہیں۔ کیا میرے اور میرے بیٹوں کے لیے اس خاندان کے ہوتے ہوئے اس قبرستان میں حصہ لینا یعنی ممبر شپ لیناجائز ہے کیا؟
سائل کا مذ کور خاندان کے افراد کے ساتھ کسی مسئلہ کو حل کرنے اور اس میں مالی جانی تعاون کرنے کے متعلق معاہدہ کرنے اور معاہدے سے انحراف کی صورت میں طلاقوں کو مشروط اور معلق کرنے اور اب طلاقوں کے واقع ہونے یا نہ ہونے سے قطعِ نظر قبرستان کے لئے زمین خریدنا اور اس کے لئے چندہ (ممبر شپ) دینا چو نکہ ایک نیک اور اجتماعی کام ہے ،اور نیا معاملہ ہے،اس کا پرانے خاندانی تنازعہ یا مشروط طلاق کے مسئلے سے شرعاً کوئی تعلق بھی نہیں اس لئے سائل اور سائل کے بیٹوں کے لئے اس نیک مقصد (قبرستان میں ممبرشپ ) میں حصہ لینا شرعاً جائز اور مستحسن ہے۔
کما فی الہندیہ: وحکی عن الحاکم المعروف بمہرویہ انہ قال وجدت فی النوادر عن ابی حنیفة رحمہ اللہ تعالیٰ انہ أجاز وقف المقبرة و الطریق کما أجاز المسجد۔اھ(باب الثانی عشر فی الرباطات و المقابر،ج:۲،ص:۴۶۴،ط:ماجدیہ)
و فی المحيط البرهاني:وحكي عن الحاكم الملقب بالمهرون إن قال وحدث في «النوادر» عن أبي حنيفة رحمه الله: أنه أجازوا وقف المقبرة والطريق، فهذه الرواية استفيدت من جهته،اھ(الفصل الثاني والعشرون في المسائل التي تعود إلى الرباطات والمقابر والخانات والحياض والطرق والسقايات،ج:6،ص:219،ط:دار الکتب العلمیۃ)