السلام علیکم!میرا سوال یہ ہے کہ کیا اسماعیلی فرقے کے لوگوں کے دیے ہوۓ پیسے مسجد ومدرسہ کی تعمیر میں استعمال ہو سکتے ہیں یا اخراجات کیلۓ جائز ہیں؟اسماعیلی شخص کے دیے ہوۓ پیسوں سے حج وعمرہ جائز ہوگا؟ یا ان کی طرف سے کی گئی مالی معاونت سنی شخص کیلۓ جائز ہوگی، کیونکہ وہ نماز اور روزہ کے انکاری ہیں اور مختلف شکل میں موجود ہیں؟رہنمائی فرمائیے۔
اگر اسماعیلی شخص مسجد میں چندہ دینے کو عبادت اور حج و عمرہ پر جانے والے کی معاونت کو ثواب کا باعث سمجھ کران مدات میں رقم دیتا ہو، تو ایسی صورت میں اس کی رقم ان مدات میں خرچ کرنا جائز ہے ، بشرطیکہ اس شخص کا اس معاونت سے مسلمانوں کو دینی یا دنیاوی کسی قسم کے نقصان یا بعد میں مسلمانوں پر احسان جتلانے کا خوف نہ ہو ، ورنہ ان سے تعاون لینے سے اجتناب ضروری ہے۔
کما فی رد المحتار: لما في البحر وغيره أن شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء أو على مسجد القدس، بخلاف الوقف على بيعة فإنه قربة عندهم فقط أو على حج أو عمرة فإنه قربة عندنا فقط فأفاد أن هذا شرط لوقف الذمي فقط؛ لأن وقف المسلم لا يشترط كونه قربة عندهم بل عندنا كوقفنا على حج وعمرة بخلافه على بيعة فإنه غير قربة عندنا بل عندهم اھ(كتاب الوقف، مطلب قد يثبت الوقف بالضرورة، ج: 4، ص:341، ط:سعيد)
وفی الھندیة: وأما الإسلام فليس بشرط فلو وقف الذمي على ولده ونسله وجعل آخره للمساكين جاز ويجوز أن يعطي المساكين المسلمين وأهل الذمة وإن خص في وقفه مساكين أهل الذمة جاز اھ (باب الوقف ج:2 ص: 352 الناشر:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)