مباحات

اپنی ویب سائٹ پر خود اشتہار دیکھ کر پیسے کمانا

فتوی نمبر :
86118
| تاریخ :
2025-09-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اپنی ویب سائٹ پر خود اشتہار دیکھ کر پیسے کمانا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میرا نام محمد احمد ہے اور میں آپ سے ایک شرعی مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں نے حال ہی میں ایک آن لائن طریقہ اختیار کیا جس سے مجھے آمدنی حاصل ہوئی۔ میں اسی آمدنی سے متعلق آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں.
تفصیلات :
میں نے ایک ویب سائٹ بنائی جسے میں نے ایک اشتہاری نیٹ ورک سے منظور (approve) کروایا . approve ہونے پر اس نے میری ویب سائٹ پر اشتہارات چلا دئیے .
اب ہونا یہ تھا کہ جتنے بھی میری ویب سائٹ کے صارفین ان اشتہارات کو دیکھتے تو اس سے مجھے ارننگ (کمائی ) ہوتی. لیکن چونکہ میری ویب سائٹ نئی تھی اور اس پر ٹریفک (صارفین کی تعداد ) زیرو تھی تو میں نے (proxies) کا استعمال کر اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک لانا شروع کر دی. اب جتنی proxies میں استعمال کرتا اتنی زیادہ مجھے کمائی ہوتی. اصل میں , میں proxies کو استعمال کر کے خود اپنی ویب سائٹ پر اشتہارات کو دیکھتا تھا جبکہ اشتہاری نیٹ ورک یہ سمجھتا تھا کہ یہ آرگینک ٹریفک (اصل صارفین ) ہیں جو اشتہارات دیکھ رہے ہیں.
تو کیا اس سے ہونے والی آمدنی حلال ہوئی حرام ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اشتہارات کے ذریعہ کمائی کی بنیادحقیقی صارفین کی آمداوراشتہارات کی تشہیرپرہے،لہذا سائل کا proxies کے ذریعے مصنوعی ٹریفک پیداکرکے اشتہاری نیٹ ورک کو یہ تاثردینا کہ یہ حقیقی صارفین ہیں، یہ عمل شرعاً دھوکہ دہی اور خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔
چناچہ سوال میں مذکور طریقے(جعلی ٹریفک اورجعلی کلکس ) سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعاً حلال نہ ہوگی۔اس لیےسائل پر لازم ہے کہ اس ناجائز عمل سے توبہ کرتےہوئے آئندہ اس طرزعمل سے اجتناب کرے، اور اگر ممکن ہو تو مذکورطریقہ پرحاصل کردہ رقم اصل مالک یا کمپنی کو واپس کرے، بصورتِ دیگر ثواب کی نیت کے بغیر فقراء پر صدقہ کردے۔

مأخَذُ الفَتوی

كماقال الله تعالي في التنزيل: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ﴾ [النساء: 29]
وفي تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن» : والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. ‌فيدخل ‌في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه، كهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك.»(2/ 338)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86118کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات