نجاسات اور پاکی

پیشاب کے ایک دو قطرے کپڑوں پر گرنے کا حکم

فتوی نمبر :
85908
| تاریخ :
2025-09-06
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پیشاب کے ایک دو قطرے کپڑوں پر گرنے کا حکم

میں نے آن لائن ميں سنا ہے کہ اگر پیشاب کے دوران کپڑوں پر صرف ایک یا دو قطرے گر جائیں تو وہ معاف ہیں اور نماز درست ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پیشاب کرے اور ہر بار ایک یا دو قطرے کپڑوں پر غلطی سے گر جائیں تو یہ قطرے جمع ہو جائیں گے۔ فرض کریں میں دن میں دس بار پیشاب کرتا ہوں تو دن کے آخر میں کل دس سے بیس قطرے ہو جائیں گے۔ اور ایک ہفتے میں یہ تعداد کئی سو قطرے تک پہنچ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر بار پیشاب کرنے پر صرف ایک یا دو قطرے گرنے سے آخر کار بڑی مقدار جمع ہو جائے تو میری نماز جائز رہے گی یا نہیں؟ برائے مہربانی تفصیل اور واضح طور پر جواب دیں۔


الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ پیشاب کے ایک دو قطروں کے معاف ہونے اور اس کے ساتھ نماز درست ہونے میں تفصیل ہے کہ، اگر پیشاب کے قطرے کپڑوں پر لگ جائیں اور وہ پھیلاؤ میں ایک درہم یعنی ایک بڑے سکہ کی مقدار تک نہ پہنچیں اور اس کے کپڑوں پر لگے رہنے کا علم بھی نہ ہو، تو ايسی صورت میں ان کپڑوں میں ادا کئی گئی نماز اگرچہ درست ادا ہوجاۓگی، مگر علم ہونے کے باوجود ان کپڑوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس لئے نماز کی ادائیگی سے قبل اس قدر نجاست کو بھی دھونا لازم ہوگا۔ اور اگر مختلف اوقات میں پیشاب کے قطرے کپڑوں پر لگ جائیں اور پھیلاؤ ایک درہم یعنی ایک بڑے سکہ کی مقدار سے زیادہ ہو جائے، تو ان کپڑوں میں نماز ادا کرنا جائز نہ ہوگا، بلکہ ایسے کپڑوں میں ادا کی گئی نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في رد المحتار: (وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل وفي رد المحتار تحت (قوله: وإن كره تحريما) أشار إلى أن العفو عنه بالنسبة إلى صحة الصلاة به، فلا ينافي الإثم (ج: 3، ص: 316، ط: ايج ايم سعيد )
وفي رد المحتار: وما في الخلاصة من قوله " وقدر الدرهم لا يمنع، ويكون مسيئا وإن قل، فالأفضل أن يغسلها ولا يكون مسيئا. اهـ. لا يدل على كراهة التحريم في الدرهم لقول الأصوليين: إن الإساءة دون الكراهة، نعم يدل على تأكد إزالته على ما دونه فيوافق ما مر عن الحلية ولا يخالف ما في الفتح كما لا يخفى، ويؤيد إطلاق أصحاب المتون قولهم " وعفي قدر الدرهم " فإنه شامل لعدم الإثم فتقدم هذه النقول على ما مر عن الينابيع - والله تعالى أعلم -. (باب الأنجاس، ج: 1، ص: 317، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: وقد ظهر مما قررناه أن الخلاف فيما يرى أثره وهو ما يدركه الطرف، وأن الأرجح العفو عنه وعدم اعتباره كما مشى عليه الشارح، وظهر أن المراد به ما كان مثل رأس الإبرة من الجانب الآخر لا أكبر من ذلك. وظهر أيضا أن ما لا يدركه الطرف ما كان مثل رءوس الإبر وأرجل الذباب فإنه لا يدركه الطرف المعتدل ما لم يقرب إليه جدا أي: مع مغايرة لون الرشاش للون الثوب، وإلا فقد لا يرى أصلا. وينبغي أنه لو شك أنه يدركه بالطرف أم لا أنه يعفى عنه اتفاقا؛ لأن الأصل طهارة الثوب وشك فيما ينجسه، (باب الأنجاس، ج: 1، ص: 323، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الهندية: وهي نوعان (الأول) المغلظة وعفي منها قدر الدرهم واختلفت الروايات فيه والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف ... عن الإيضاح كل ما يخرج من بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي والقيح والصديد والقيء إذا ملأ الفم. كذا في البحر الرائق. ... فإذا أصاب الثوب أكثر من قدر الدرهم يمنع جواز الصلاة. كذا في المحيط. (الباب السابع في النجاسة وأحكامها، ج: 1، ص: 45-46، ط: المكتبة الماجدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85908کی تصدیق کریں
0     536
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات