1۔ میں یو اے ای میں مقیم ہوں۔ یہاں عصر کی نماز اول وقت میں پڑھ لی جاتی ہے۔کیا میں عصر کی نماز باجماعت اول وقت میں ادا کیا کروں یا پھر گھر میں بیوی کے ساتھ جماعت کروانا بہتر ہے؟
2- نماز کے اوقات موبائل ایپ میں جس طرح نظر آتے ہیں کیا حقیقت میں بھی ایسا ہے؟ مثال کے طور پر کیا ظہر کا وقت عصر کے وقت تک ہے اور مغرب کا وقت عشاء تک ہے؟ جیسے آج عصر کا وقت 04:40 ہے تو کیا اس وقت تک ظہر پڑھی جا سکتی ہے؟ عشاء کا وقت 07:51 ہے تو کیا اس وقت تک مغرب پڑھی جا سکتی ہے؟
3- یو اے ای میں ایک مسجد میں کئی بار جماعت ہو سکتی ہے- جو لوگ دیر سے آیئں وہ دوبارہ جماعت کروا لیتے ہیں- کیا ایسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں یا اپنی انفرادی نماز ادا کرنا بہتر ہے؟
جزاک اللہ
1-احناف کے نزدیک مفتی بہ قول کے مطابق مثلِ ثانی کے بعد عصر کا وقت شروع ہوتا ہے لہذا سائل کے ہاں عصر کی جماعت اول وقت میں ادا کی جانے سے اگر سائل کی مراد یہ ہو کہ عصر کا وقت داخل ہوتے ہی اول وقت میں جماعت کی جاتی ہو تو سائل کو عصر کی نماز گھر پر پڑھنے کے بجائےمسجد میں باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کرنا چاہئیے۔
2-اگر کوئی ایپ مقامی سطح پر تیار شدہ معتبر جنتری یاعالمی سطح پر تیار شدہ جنتری (جیسے ام القری وغیرہ کا تیار کردہ جنتریاں ) کے مطابق اوقات بتاتا ہو تو اس پر عمل کرنے کی اجازت ہے چنانچہ اس میں دیے گئے کسی بھی نماز کے وقت سے پہلےسابقہ وقت کی نماز پڑھی جا سکتی ہے تاہم بلا عذر کسی نماز کو اتنا مؤخر کرنا کہ شک ہونے لگے جائز نہیں اس احتراز لازم ہے۔
3-عند الاحناف ایسی مسجد کہ جس کا امام اور مقتدی متعین ہوں اور وہ شارع عام کی مسجد نہ ہو تو اس میں جماعت ثانیہ مکروہ ہے جس سے احتراز چاہئیے ۔
وفي الهداية شرح بداية المبتدي: باب المواقيت: "أول وقت الفجر إذا طلع الفجر الثاني وهو البياض المعترض في الأفق وآخر وقتها ما لم تطلع الشمس" لحديث إمامة جبريل عليه السلام فانه أم رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها في اليوم الاول حين طلع الفجر وفي اليوم الثاني حين أسفر جدا وكادت الشمس أن تطلع ثم قال في آخر الحديث "ما بين هذين الوقتين وقت لك ولامتك".."و أول وقت الظهر اذا زالت الشمس" لإمامة جبريل عليه السلام في اليوم الأول حين زالت الشمس "وآخر وقتها عند ابي حنيفة رحمه الله اذا صار ذل كل شيء مثليه سوى فيء الزوال وقالا إذا صار الظل مثله".. "وأول وقت العصر إذا خرج وقت الظهر على القولين وآخر وقتها ما لم تغرب الشمس".. "وأول وقت المغرب إذا غربت الشمس وآخر وقتها ما لم يغب الشفق".." وأول وقت العشاء إذا غاب الشفق وآخر وقتها ما لم يطلع الفجر الثاني"اه.(ج:1،ص:193،كتاب الصلاة ،مكتبةالبشرى)
وفي الفتاوى الهندية: المسجد إذا كان له إمام معلوم وجماعة معلومة في محله فصلي اهله فيه بالجماعة لا يباح تكرارها فيها بأذان ثان أما إذا صلوا بغير أذان يباح إجماعا وكذا في مسجد قارعة الطريق. كذا في شرح المجمع للمصنف.(ج:1،ص:83،مط: ماجدية)