السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
میں بلجیئم میں ایک کمپنی میں ملازم ہوں۔ کمپنی ہمیں ایک Flex Income Plan دیتی ہے، جس میں ہم اپنی تنخواہ کے حصے کے بدلے کچھ سہولیات (benefits) منتخب کر سکتے ہیں۔
اس پلان میں ایک آپشن یہ ہے کہ میں ایک الیکٹرک پروڈکٹ (مثلاً بائیک یا لیپ ٹاپ وغیرہ) کمپنی کے ذریعے لیز پر حاصل کروں۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
1. میں ہر ماہ اپنی تنخواہ/بینیفٹ سے ایک مقررہ رقم ادا کرتا ہوں۔
2. لیز کی مدت مکمل ہونے پر، مجھے یہ چیز خریدنی ہوتی ہے اور بقیہ قیمت (Residual Value) پہلے ہی طے شدہ اور فکسڈ ہوتی ہے۔
3. اگر میں کمپنی چھوڑ دوں، تو مجھے صرف بقیہ قسطیں (جو پہلے سے طے ہیں) اپنی نیٹ تنخواہ یا باقی بینیفٹس سے ادا کرنی ہوں گی۔
4. اس پلان میں سودی رقم یا انٹرسٹ شامل نہیں ہے، اور نہ ہی تاخیر کی صورت میں کوئی اضافی جرمانہ لگتا ہے، کیونکہ قسطیں خودکار طریقے سے کٹتی ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا اس طرح کا لیز ٹو اون (Lease-to-Own) پلان شریعت کے مطابق حلال ہے یا نہیں؟
جزاکم اللہ خیراً
سائل نے کمپنی کی اس عقد سے متعلق پالیسی کی دستاویزات یا فریقین کے مابین ہونے والے معاہدے کی تفصیل ارسال نہیں کی،تا کہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم ہمارے ہاں اجارہ پلس بیع (lease-to-own) کی جو مروجہ صورت پائی جاتی ہے، اس میں چونکہ عقدِ اجارہ کرتےوقت اس چیز کی خریدنے کی شرط بھی لگائی جاتی ہے، اور ایک ہی عقد میں کرایہ داری اور خرید و فروخت کے معاملہ کوایک دوسرے کے ساتھ مشروط طور پر جمع کیا جاتا ہے جو کرنا شرعاً جائز نہیں، لہٰذا مذکورہ lease-to-own پلان میں بھی ایک ہی عقد میں اجارہ اور بیع کو اس طور پر جمع کیا جا رہا ہو کہ یہ دونوں معاملات ایک دوسرے کے ساتھ مشروط ہوں تو اس طرح معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، البتہ اس کے جواز کی صورت یہ ممکن ہے کہ کمپنی جو چیزکسٹمر کو بطورِ اجارہ دے رہی ہو تو کسٹمر کے ساتھ اس عقدِ اجارہ کرنے سے پہلے یا بعد میں خریدوفروخت کا معاملہ کرنے کے بجائے عقدِ اجارہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد مستاجر سے خریدنے کافقظ وعدہ لے لیں تو یہ صورت شرعاً جائز ہوگی، جبکہ اس معاملہ کے بعد بھی عقدِ اجارہ کے جملہ شرائط جیسے مدت کے دوران اس چیز کا مالک کمپنی کہلائیگی، اور اگر یہ چیز اس دوران بغیر کسی تعدی کے ہلاک ہو جائے تو یہ کمپنی ہی کا نقصان شمار ہوگا، اس کی ذمہ داری سائل یا کلائنٹ پر ڈالنا درست نہ ہوگا، اس طرح کہ بیع ہوجانے تک دیگر احکام کی پابندی بھی لازم ہوگی۔
كما في سنن الترمزي: عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين» في بيعة.وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود.حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح.والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين - ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهماالخ(باب ماجاء فِي النَّهْيِ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ،ج:١،ص:٤٨٢،مط:البشري،رقم الحديث:١٢١٦)
وفي مرقاة المفاتيح:أي صفقة واحدة وعقد واحد(الى قوله)وثانيهما: أن يقول: بعتك هذا العبد بعشرة دنانير على أن تبيعني جاريتك بكذا، فهذا أيضا فاسد لأنه بيع وشرط الخ (الفصل الأول: باب المنهي عنها من البيوع،ج:٦،ص:٨٨،ط:المكتبة الحقانية)
وفی المبسوط للسرخسی:قال: فإن كان فيه منفعة لأحد المتعاقدين فالبيع فاسد؛ لأن الشرط باطل في نفسه والمنتفع به غير راض بدونه فتتمكن المطالبة بينهما بهذا الشرط فلهذا فسد له البيع، وكذلك إن كان فيه منفعة للمعقود عليه وذلك نحو ما بينا أنه إذا اشترى عبدا على أنه لا يبيعه فإن العقد يعجبه أن لا تتناوله الأيدي، وتمام العقد بالمعقود عليه حتى لو زعم أنه حر كان البيع باطلا فاشتراط منفعته كاشتراط منفعة أحد المتعاقدين اھ(كتاب الإجارات،ج:١٥،ص:١٠٢،ط:دار الفكر)
وفي فقه البيوع:أما إذا أجر المؤجر عيناً، ولم يكن البيع مشروطاً في عقد الإجارة، ولكن وعد المؤجر بالبيع وعداً منفصلاً عن العقد، فينبغى الجواز، بشرط أن تجري عليه جميع أحكام الإجارة طوال المدة، بما فيها أن العين المؤجرة تبقى في ملك البائع وضمانه طوال المدة، بحيث إذا هلكت بدون تعد أو تقصير من المستأجر، تهلك من مال المؤجر، وينقطع الكراء. وإن هلكت بتقصير من المستأجر، فإنه يضمن قيمتها يوم الهلاك، وبشرط أن يعقد البيع مستقلاً بعد انتهاء مدة الإجارة، وسميت مثل هذه العملية في الكتابات المعاصرة "الإجارة المنتهية بالتمليك". وقد صدر به قرار من مجمع الفقه الإسلامي الدولي اھ(الاجارۃ المنتھیۃ بالتملیک،ج:١،ص:٥٢٦،ط:مكتبة معارف القران)