محترم مفتیانِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
میں ایک دینی ادارے کا مہتمم ہوں،اس سے قبل میرا ذاتی کراکری کا کاروبار تھا، لیکن جب میں نے گھر مدرسے کے ساتھ منتقل کیا تو میرا کاروبار متاثر ہو گیا، فی الحال میں نے بنات کا مدرسہ قائم کیا ہے، اور اپنا گھر بھی اسی مدرسے کے ساتھ منتقل کر لیا ہے، مدرسے میں ،میں خود تدریس کے فرائض سرانجام دیتا ہوں، میری دو بیٹیاں بنات کو پڑھاتی ہیں، اور میرے دو بیٹے اسی مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، علاوہ ازیں میری اہلیہ مہمانوں اور مدرسے کے دیگر امور کے لیے کھانے پینے کی تیاری میں ہر وقت مصروف رہتی ہیں،اس صورتحال میں میری گذارش یہ ہے کہ کیا میرے اور میرے اہلِ خانہ (بیوی، بیٹے، بیٹیاں) کے لیے مدرسے کے فنڈ سے گھر کا کھانا پینا لینا شرعاً جائز ہوگا یا نہیں؟ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں ادارہ کے ساتھ تعاون کرنے والوں نے اگر اپنا تعاون طلبہ کے ساتھ خاص نہ کیا ہو ،بلکہ عرف کے مطابق خرچ کرنے کا کہہ دیا ہو، اور مدرسہ کی انتظامیہ کی طرف سے طلباء کے علاوہ اساتذہ و ملازمین کو بھی کھانا جاری کرنے کا ضابطہ ہوتو ایسی صورت میں سائل کے لیے خود ،اور اسکی بیوی ،اور معلمات بیٹیوں کے لیے مدرسہ سے کھانالینا جائز ہو گا۔
کما فی الشامیۃ:الوکیل إنما یستفید التصرف من الموکل، وقد أمرہ بالدفع إلي فلان، فلا یملک الدفع إلی غیرہ، کما لو أوصی لزید بکذا لیس للوصي الدفع إلی غیرھا الخ (کتاب الزکوۃ ج:3،ص:224، ط: رشیدیۃ)۔
و فیھا أیضا: علی أنھم صرحوا بأن مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ، وصرح الأصولیون بأن العرف یصلح مخصصا‘‘.(کتاب الوقف، مطلب في المصادقۃ علی النظر، 6، ص: 63،ط: رشیدیۃ) ۔