علمائے کرام اور مفتیانِ عظام کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ ایک مسئلہ کی وضاحت فرما دیں:
اگر کوئی شخص نہ کسی شیخِ طریقت، نہ کسی پیرِ کامل، اور نہ ہی کسی عالمِ دین کا فرزند ہو، تو کیا ایسے شخص کے لیے اپنے نام کے ساتھ "صاحبزادہ" کا لقب استعمال کرنا شرعاً و عرفاً درست ہے؟کیا "صاحبزادہ" کا استعمال ایک عام لقب ہے جسے ہر کوئی لگا سکتا ہے، یا یہ خاص اُن افراد کے لیے ہے جن کا تعلق دینی و روحانی خانوادوں سے ہو؟
"صاحبزادہ" کالفظ لغوی معنی کے اعتبارسے(۱) شریف زادہ، رئیس زادہ (۲) فرزند، لڑکا، بیٹا، کسی بزرگ کی اولاد (۳) تجربہ کار۔ (فیروز اللغات) مذکور لقب برصغیر کے عرف میں خاص اُن افراد کے لیے معروف ہے جن کا تعلق مشائخ، علماء یا دینی و روحانی خانوادوں سے ہو۔ اگر کوئی شخص نہ کسی عالم، پیر یا شیخِ طریقت کا بیٹا ہو، نہ ہی اس کا دینی یا روحانی نسبت سے تعلق ہو، اس کے لیے اپنے نام کے ساتھ "صاحبزادہ" کا استعمال مناسب نہیں، کیونکہ یہ عرفی دھوکہ کا اظہار ہے، جس سے بہرحال اجتناب کرناچاہیے۔
البتہ اگر کسی علاقے یا خاندان میں "صاحبزادہ" محض ادب یا احترام کے طور پر عام لوگوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہو، اور کسی خاص روحانی یا دینی نسبت کا مفہوم مراد نہ لیا جاتا ہو، تو عرفِ عام کے مطابق اس کے استعمال کی گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن ایسی صورت میں بھی خود ساختہ لقب اختیار کرنے سے اجتناب بہتر ہے، کیونکہ عام طورپریہ نفس کی بڑائی اور جھوٹی شہرت کا سبب بن کرتکبراورتعلی کاذریعہ بن جاتا ہے ،جوانتہائی خطرناک باطنی بیماری اورایمان وعمل کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔جس سے خودکومحفوظ رکھنے کی سعی شرعاً واجب ہے۔