احکام نماز

نماز میں وساوس اور برے خیالات آنا اور ان سے بچنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
8461
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز میں وساوس اور برے خیالات آنا اور ان سے بچنے کا طریقہ

السلام علیکم! مجھے نماز میں وسوسے اور بہت عجیب خیالات آتے ہیں جن کو میں اپنی زبان پر لانے کا سوچ بھی نہیں سکتا، یہی مسئلہ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھتے وقت بھی ہوتا ہے براہ مہربانی میری مشکل حل فرمائیں۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سب سے پہلے تو سائل کو چاہیے کہ وہ جس کسی غیر مسلم تنظیم (یہود و نصاریٰ، ہندو، شیعہ اور قادیانی وغیرہ) کے افراد کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا ہے تو فوراً ان کے ساتھ تعلقات ختم کردے اور اب تک کے تعلقات پر توبہ واستغفار کرے۔
دورانِ نماز اپنی توجہ اور دھیان جمانے کی کوشش کرے، اور اس قسم کے خیالات آتے ہی اپنی توجہ وہاں سے ہٹادے اور اپنا تعلق کسی متبعِ شریعت مستند عالم دین کے ساتھ قائم کرے، اس کے مشورہ کے موافق عمل کرے اور اصلاحِ باطن کی فکر کرنے کے ساتھ ساتھ نیکوکار لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے کو ترجیح دیا کرے، اور جب تک یہ امور میسر نہ ہوں اس وقت تک تیسرے کلمہ کا بکثرت ورد رکھے، انشاء اللہ ضرور بہتری کی صورتیں نمودار ہوں گی، جبکہ دورانِ نماز خود بخود بُرے خیالات آنے سے نماز متاثر نہیں ہوتی۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾۔ (الرعد:۲۸) و اللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سيد محمد بلال سلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 8461کی تصدیق کریں
| | | |
0     2366
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات