میں ایک سرکاری ادارے سے ریٹائرڈ ہوں۔ میرا محکمہ میرے سے مزید کام لینا چاہتا ہے لیکن میری عمر تقریباً 65 سال ہو گئی ہے۔ اور جس کام کے لیے مجھے کہا جارہا ہے وہ کرنے کے لئے محکمہ کے پاس کوئی ملازم نہیں ہے ۔ چونکہ مجھے کنٹریکٹ پر بھی نہیں رکھا جا سکتا اس لئے محکمہ والے کہتے ہیں کہ آپ ہمارے پاس کام کرو ہم آپ کے بیٹے یا بیٹی کا نام لکھ لیتے ہیں آپ کی تنخواہ ان کے نام پر بھیج دی جائے گی ۔ کیا اس طرح تنخواہ لینا میرے لیے جائز ہے ۔ رہنمائی فرمائیں ۔
صورت مسئولہ میں اگرچہ سائل کام کرکے اس کاحق الخدمت وصول کریگالیکن مذکورہ ادارے میں چونکہ سرکاری قوانین کے مطابق کسی افسر یا ملازم کو یہ اختیارحاصل نہیں کہ وہ اس طرح کسی شخص کاتقررکرکے کسی اور سے مُفوَّضہ کام (ڈیوٹی) کروائے،جس شخص کوملازمت پررکھاگیاہے اس کابذات خودجائےملازمت پر حاضر ہونا اور مفوضہ ذمہ داری اداکرنا ضروری ہے، لہذاصورتِ مسئولہ میں جب سائل کے بیٹے یا بیٹی کے نام پر تنخواہ ظاہر کی جائے گی، حالانکہ وہ کام نہیں کریں گے۔ یہ عمل شرعاً اور قانوناً ناجائزدھوکہ دہی، اورجھوٹ کے زمرے میں آتا ہے، جو شرعاً حرام ہے۔ اگرادارہ واقعی سائل سے کام لینا چاہتا ہے توکسی عارضی مشاورتی معاہدے(Consultancy/Advisory)کی صورت اختیار کرےاورقانونی دائرہ کار میں رہ کر تنخواہ دی جائےاگر کوئی اور صورت ممکن نہ ہو، تو سائل کے لیے بہتریہی ہے وہ کام نہ کرے اور خودکودنیاوآخرت کےفتنے سے بچائے۔
کما فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي : (وإذا شرط عمله بنفسه) بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره خلاصة(6/ 18)
و فی شرح المجله للأتاسی : "الاجير الذي استؤجر على ان يعمل بنفسه ليس له ان يستعمل غيره مثلا: لو اعطى احد جبة لخياط على ان يخيطها بنفسه بكذا دراهم، فليس للخياط ان يخيطها بغيره وان خاطها بغيره وتلفت فهو ضامن ..... لو اطلق العقد حين الاستئجار فللاجير ان يستعمل غيره.((2/271،272/المادۃ؛571، 572، کتاب الاجارۃ، ط: رشیدية)