جناب مجھے یہ جاننا ہے کہ دیوبندی نماز میں جب بیٹھتے ہیں تو وہ التحیات میں جب ’’أشہد أن لا إلٰہ إلا اللہ‘‘ پڑھتے ہیں اس کے بعد وہ انگلیوں کا حلقہ بناتے ہیں وہ کیوں بناتے ہیں؟ مجھ سے کسی نے پوچھا تھا، قرآن وحدیث کے حوالے کے ساتھ ترجمہ بھی لکھیےگا۔
یہ سنت عمل ہے اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو:
ترجمہ: حضرت وائل ابن حجر ؒ نے فرمایا کہ میں نے حضور پاکﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنایا اور اس کے ساتھ متصل (شہادت کی) انگلی کو بلند فرمایا اور دوران تشہد اس سے اشارہ فرمایا۔
ففی سنن ابن ماجه: عن وائل بن حجر، قال: «رأيت النبي صلى الله عليه وسلم قد حلق بالإبهام والوسطى، ورفع التي تليهما، يدعو بها في التشهد» اھ (1/ 295)