احکام نماز

اگر کسی کا بار بار وضوء ٹوٹتا ہو تو کیا اس کی امامت جائزہے؟

فتوی نمبر :
82709
| تاریخ :
2025-05-13
عبادات / نماز / احکام نماز

اگر کسی کا بار بار وضوء ٹوٹتا ہو تو کیا اس کی امامت جائزہے؟

السلام علیکم! علماء کرام ایک مسئلہ میں رہنمائی درکار ہے کہ اگر ایک شخص کا بار بار وضو ٹوٹ جاتا ہو، لیکن شرعی معزور بھی نہ ہو، لیکن مشقت بہت پیش آتی ہو، اور اس نے درس نظامی بھی کیا ہوا ہو، اور وہ دوسرے مسالک پر عمل کرتے ہوئے امامت کروانا چاہتا ہو، تو کیا اس کے لئے کوئی گنجائش موجود ہے کہ وہ ایسا کر سکے ؟اگر گنجائش نکلتی ہو تو ضرور آگاہ فرمایۓ، اور طریقہ بھی بتا دیجیۓ، اور تنہا نماز کے لیے بھی کوئی مزید مشقت کی وجہ سے گنجائش ہو تو ضرور رہنمائی کیجئے، ان مسائل کی وجہ سے بہت پریشان ہوں، اللّٰہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل اگر شرعی معذور نہ ہو تو نوافض میں سے کسی ناقص کے پائے جانے کی وجہ سے اس کا وضو فاسد ہو جائے گا، جس کے بعد تجدید وضو کئے بغیر ادائیگی نماز (خواہ انفرادی ہو یا جماعت کے ساتھ ہو) شرعاً درست نہ ہوگی، اور نہ ہی اس طرح ادا کی جانے والی نماز شرعاً درست ادا ہوگی، لہذا وضو ٹوٹ جانے کی صورت میں تجدید وضو کئے بغیر نماز جاری رکھنے سے اجتناب لازم ہے۔ جہاں تک اس سلسلہ میں مسلک غیر پر عمل کی اجازت اور گنجائش کا تعلق ہے، تو ائمہ اربعہ میں سے کسی بھی امام کے نزدیک بغیر وضو کے نماز درست نہیں ہوتی، البتہ اگر سائل کو اس بارے میں کوئی اشکال ہو، یا کسی خاص صورت کا حکم معلوم کرنا چاہتا ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر مکرر معلوم کر سکتا ہے، جس پر غور کر کے حکم شرعی سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وصاحب عذر من بہ سلس) بول لا یمکنہ إمساکہ (أو استطلاق بطن أو انفلات ریح أو استحاضۃ) (إلی قولہ) (إن استوعب عذرہ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ) بأن لا یجد فی جمیع وقتھا زمنا یتوضأ ویصلی فیہ خالیا عن الحدث الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ لا یمکنہ امساکہ) أما إذا أمکنہ خرج عن کونہ صاحب عذر الخ(مطلب فی أحکام المعذور، ج 1، ص 305، ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا وهو الأظهر كالانقطاع لا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله حتى لو سال دمها في بعض وقت صلاة فتوضأت وصلت ثم خرج الوقت ودخل وقت صلاة أخرى وانقطع دمها فيه أعادت تلك الصلاة لعدم الاستيعاب (إلی قولہ) وشرط بقائہ ان لا یمضی علیہ وقت فرض الا والحدث الذی ابتلی بہ یوجد فیہ ھکذا فی التبیین، المستحاضۃ ومن بہ سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الریح أو رعاف دائم أو جرح لا یرقأ یتوضؤن لوقت کل صلاۃ (إلی قولہ) وإن توضأ علی السیلان وصلی علی الانقطاع وتم الانقطاع باستیعاب الوقت الثانی أعاد کذا فی شرح منیۃ المصلی الخ(الفصل الرابع فی أحکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج 1، ص 40،41، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الهدایة: أما المعانی الناقضة للوضوء كل ما یخرج من السبلین لقوله تعالیٰ أو جاء أحد منكم من الغائط و قیل لرسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم : و ما الحدث قال ما یخرج من السبیلین الخ(فصل فی نواقض الوضوء، ج 1، ص 22، ط: مجیدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالصمد فرید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82709کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات