ہم چند افراد نے اپنی زکوٰۃ کی رقم اپنی کمیونٹی کے ضرورت مندوں کی مدد کے لیے جمع کی ہے،ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا شریعت ہمیں زکوٰۃ کے اہل افراد کی جانب سے اسکول کی فیس، کتابوں کے اخراجات اور یونیفارم براہ راست اسکول کی انتظامیہ کو ادا کرنے کی اجازت دیتی ہے؟ کیونکہ ہم ایک ایسا گروپ ہیں جنہوں نے اپنی زکوٰۃ جمع کی ہے لہذا ہم ایک فلاحی AOP (ایسوسی ایشن افراد) کی طرح ہیں ، ہم کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے جس میں ذرہ برابر بھی شبہ ہو یا ممکن ہو لیکن شریعت نے اسے ناپسند کیا ہو۔
واضح ہوکہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے تملیک ( مستحق زکوۃ شخص کو مالک بنانا ) شرعاً ضروری ہے کسی مستحقِ زکوۃ شخص کو مالک بنائے یا اس کی طرف سے وکیل بنے بغیر براہ راست اسکول فیس وغیرہ کی ادائیگی میں زکوۃ کی رقم دینے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی۔ لہذا سائل اور اس کے دیگر ساتھیوں کا مستحق بچوں کے وکیل بنے بغیر ان کے اسکول کی فیس زکوۃ کی رقم سے براہ راست اسکول انتظامیہ کو ادا کرنا درست نہیں اور نہ ہی اس طرح کرنے سے زکوۃ کی ادائیگی ہوگی ،البتہ زکوۃ کی رقم مستحقِ زکاۃ بالغ و سمجھدار بچوں کو خود اور نابالغ بچوں کے والدین کو یا ان بچوں کی طرف سے کسی مقرر کردہ وکیل کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدیا جائے پھر وہ اس رقم کو اسکول فیس کی مد میں دیدیں یا ان مستحقِ زکوۃ بچوں یا ان کے والدین کی اجازت ومرضی سے ان کا وکیل بن کر زکوۃ کی رقم سے اسکول فیس ادا کردیں بہر دو صورت زکوۃ شرعاً درست ادا ہوجائے گی ، جبکہ زکوۃ کی رقم سے کتب اور یونیفارم خرید کر ان مستحق بچوں کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دینے کی صورت میں بھی زکوۃ بلاشبہ درست ادا ہوگی ۔
کمافی الفتاوی الھندیۃ: "أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى." (170/1)
وفی بدائع الصنائع :وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليهأو إلى يد من هو نائب عنه ۔۔۔۔ وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبي فقير أو مجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز؛ لأن الولي يملك قبض الصدقة عنه.(39/2)
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1