میرے شوہر کا بھائی نافرمان اور آوارہ ہے ۔شراب بھی پیتا رہا ہے ۔میرے شوہر کے پیسے بھی گھر سے چرائے ۔سب کی مرضی کے خلاف ایک عورت سے کورٹ میرج کر لی ۔٢ بچے بھی ہو گئے ۔کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرتا ۔میرے شوہر باہر جاب کرتے ہیں، ہم نے نیا گھر خریدا ہے ،میرے شوہر نے اپنے والدین کو میرے ساتھ ہی رکھا ہے ۔ہم بہت اچھی طرح ان کا خیال رکھتے ہیں ۔لیکن میں نے اس دیور اور اس کی فیملی کا آنا اپنے گھر میں بند کر رکھا ہے۔ کیوں کے مجھے اسکی سابقہ حرکتوں کی وجہ سے ڈر لگتا ہے . اکثر وہ ماں باپ کے ذریعے پیسے مانگتا رہتا ہے ۔ میرے شوہر نے اسے ٹھیلا بھی لے دیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ میں چاہتی ہوں کے کچھ پیسے جمع کر کے میرے شوہر پاکستان میں ہی کوئی کاروبار کریں ا ور میرےا ور بچوں کے ساتھ رہیں ۔ہماری شادی کو چار سال ہوۓ ہیں ۔ میرے لئے بھی ان کے بغیر رہنا مشکل ہو جاتا ہے ۔کیا اسے گھر نہ آنے دینے پر یا پیسے نہ دینے پرمیں اور میرے شوہر گناہ گار ہوں گے ؟کیا اس کے خاندان کی کفالت اس کی خود کی زمہ داری نہیں ہے ؟
واضح ہوکہ اگر کوئی شخص (خواہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو) بارہا غیر اخلاقی حرکتیں کر چکا ہو، جھوٹ بولتا ہو، نشہ کرتا ہو، چوری یا پیسے ہتھیانے کی کوشش کر چکا ہو، تو ایسے شخص کو گھر میں آنے سے روک دینا شرعاً ممنوع نہیں بلکہ احتیاط اور حفاظت کا تقاضا ہے۔لہٰذا،اگر دیور کی سابقہ حرکات سے سائلہ اوراس کےگھروالوں کو جانی، مالی یا اخلاقی نقصان کا خدشہ ہو تو اسے اپنے گھر میں نہ آنے دینا شرعاً جائز ہے اور سائلہ اوراس کے گھروالے اس پر گناہ گار نہیں ہوں گئے۔
جبکہ ہر شخص پرخود اپنی بیوی ، بچوں کا نان و نفقہ فرض ہے۔اگر کوئی شخص خود کمانے کے قابل ہو، لیکن کاہلی، عیاشی، یا بدمعاشی کی وجہ سے خود اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری نہ کر رہا ہو، تو ایسے شخص کو بار بار مالی مدد دینا ضروری نہیں۔اس لیے سائلہ کے دیور کی بیوی ، بچوں کےنفقہ کی اصل ذمہ داری خود اسی پر ہے، اور اگر وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا تو اس پر باز پرس اس سے ہو گی۔اگرسائلہ کا شوہر یا گھر والے دیور کی سابقہ روش کو دیکھتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ مالی مدد سے وہ مزید آوارگی یا غیر ذمہ داری میں اضافہ کرے گا،یا یہ رقم ضائع یا غلط کاموں میں استعمال ہو گی،تو ایسی صورت میں اسے پیسے نہ دینا گناہ نہیں بلکہ دانشمندی ہے۔ البتہ اگر کبھی شدید مجبوری (بھوک، بیماری وغیرہ) کی صورت ہو، تو صرف ضرورت کے مطابق مدد کی جا سکتی ہے، اس میں بھی بہترصورت یہ ہےکہ مذکوردیورکورقم دینےکی بجائے براہِ راست اہلِ خانہ (بیوی/بچوں) کو دی جائے، تاکہ وہ اسے بہتراندازمیں ضرورت کے مطابق صحیح مصرف میں خرچ کرسکیں۔
کما فی صحيح البخاري : عن عقبة بن عامر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:(إياكم والدخول على النساء). فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: (الحمو الموت). (5/ 2005)
و فيه أيضا : عن أبي هريرة رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: (لا يلدغ المؤمن من جحر واحد مرتين). (5/ 2271)
و في صحيح مسلم : عن طلحة بن مصرف، عن خيثمة؛ قال:كنا جلوسا مع عبد الله بن عمرو. إذ جاءه قهرمان له، فدخل. فقال: أعطيت الرقيق قوتهم؟ قال: لا. قال: فانطلق فأعطهم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كفى بالمرء إثما أن يحبس، عمن يملك، قوته".(2/ 692 ت عبد الباقي)