کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زکوۃ کی رقم سے کسی کو گھر خرید کر دیاجاسکتاہے یا نہیں؟کیونکہ پیسے دینے میں یہ اندیشہ ہے کہ وہ کسی اور مصرف میں خرچ کردےگا۔
واضح ہوکہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں بقدر نصاب (ساڑھے سات تولہ سونا ، ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر نقدی ، مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان وغیرہ)مال موجود نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو ایسے شخص کو زکوۃ کی رقم سے گھر خرید کر دینے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
کما فی الھندیۃ:تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين (کتاب الزکاۃ،ج:1،ص:170،ط:دارالفکر)
و فیھا :(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز رجل أدى خمسة من المائتين بعد الحول إلى الفقير، أو إلى الوكيل لأجل الزكاة ثم ظهر فيها درهم ستوقة لم تكن تلك الخمسة زكاة لنقصان النصاب، وإذا أراد أن يسترد الخمسة من الفقير ليس له ذلك، وله أن يسترد من الوكيل إن لم يتصدق بها هكذا في فتاوى قاضي خان.(کتاب الزکاۃ،ج:1،ص:172،ط:دارالفکر)
و فیھا(منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة كذا في فتح القدير. التصدق على الفقير العالم أفضل من التصدق على الجاهل كذا في الزاهدي.(کتاب الزکاۃ،ج:1،ص:187،ط:دارالفکر)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0