کیا فجر کی سنتیں فرض پڑھنے کے بعد پڑھنا جائز ہے؟ اور اگر امام فرض پڑھا رہا ہو اور ایسے میں کوئی آدمی سنت پڑھ رہا ہو اور وہ امام کی قراءت واضح طور سے سن رہا ہو تو کیا حکم ہے؟
ایسی صورت میں باجماعت ادائیگی نماز کی جگہ اور صفوں سے ہٹ کر کسی برآمدے وغیرہ میں سنتیں پڑھ کر امام کے سلام پھیرنے سے پہلے شریک جماعت ہونے کی اگر اُمید ہو تب تو بہتر یہ ہےکہ پہلے یہ سنتیں پڑھ لی جائیں اور اس کے بعد شریکِ جماعت ہو جائے، ورنہ سنتیں ترک کرے دے اور جماعت میں شریک ہو جائے۔
ففی الدر المختار: (لا) يتركها بل يصليها عند باب المسجد اھ (2/ 56)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله عند باب المسجد) أي خارج المسجد كما صرح به القهستاني. وقال في العناية لأنه لو صلاها في المسجد كان متنفلا فيه عند اشتغال الإمام بالفريضة وهو مكروه اھ (2/ 56)
وفی الدر المختار: (وإذا خاف فوت) ركعتي (الفجر لاشتغاله بسنتها تركها) لكون الجماعة أكمل اھ (2/ 56)