مباحات

اولڈ ایج ہوم بنانے اور چلانے کا شرعی طریقہ

فتوی نمبر :
81897
| تاریخ :
2025-04-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اولڈ ایج ہوم بنانے اور چلانے کا شرعی طریقہ

محترم مفتی صاحب! السلام علکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں :
(1) اسلامی نقطہ نظر سے غریب اور بے سہارا مسلم بزرگوں کے لیے اولڈ ایج ہوم (OLD AGE HOME) قائم کرنے اور چلانے کا اسلامی حکم کیا ہے؟
(2) کیا عام مسلمان اس مقصد کے لے مالی اور دیگر تعاون کر سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اولڈ ایج ہوم اس نیت سے قائم کرنا کہ اس میں معاشرے کے ایسے بزرگ افراد کو سہارا ملے ، جن کے گھر نہیں ہے یا گھر پر ان کی مناسب خدمت اور دیکھ بھال نہیں ہوتی ، شرعا جائز اور مستحسن عمل ہے، اور اس مقصد کے لیے لوگوں سے تعاون کی اپیل کرنا، یا لوگوں کا اولڈ ایج ہاؤس چلانے کے لیے تعاون کرنا بھی شرعا جائز اور مستحسن عمل ہے، شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تعالى في القرآن الكريم: "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ" (سورہ مائدہ : 2)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدابراہیم خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81897کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات