مباحات

وگ لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
81886
| تاریخ :
2025-03-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

وگ لگانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
وگ لگانا شرعاً جائز ہے کہ نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ آرٹیفیشل ہیئر یعنی مصنوعی بال یا وگز اگر انسان اور خنزیر کے بال سے نہ بنی ہو ، تو اس کا استعمال جائز ہے،جسے پہن کر نماز پڑھ سکتے ہیں،البتہ اگر وہ مستقل طور پر سر میں اصلی بالوں کی طرح پیوست نہ ہو ، بلکہ مرضی کے مطابق پہن سکتے ہوں یا اتار سکتے ہوں ، تو وضو اور غسل میں اس کو اتارنا لازم ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الهدایة: ولا یجوز بیع شعور الإنسان ولا الإنتفاع به لأن الآدمی مكرم. الخ (ج۳، ص۵۵)
وفی الهندیة: الإنتفاع بأجزاء الآدمی لم یجز قبل للنجاسة وقیل لكراهة هو الصحیح. الخ (ج۵، ص۳۵۴)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81886کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات