قرآن پاک میں سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۱۴۴ میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ، نماز پڑھتے وقت اپنا منہ قبلہ کی طرف کرو ، اگر مسجد کا رُخ قبلہ کی طرف نہ ہو ،یا ایک یا دو درجہ بھی دائیں یا بائیں ہو ، تو کیا نماز ہو جائے گی؟ بحوالہ بہارِ شریعت احمد رضا بریلوی، اگر مسجد کا رُخ ۴۵ درجہ یعنی ۲۲.۵ درجہ دائیں یا بائیں بھی ہو ، تو بھی نماز ہو جاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ،شریعت کیا کہتی ہے کہ جن مساجد کا رُخ یا درجہ بالکل قبلہ کی طرف نہیں ہے یا ایک یا دو درجہ ہٹا ہے، اُن میں نماز ہو سکتی ہے یا نہیں؟
اگرچہ سمتِ قبلہ سے پنتالیس ڈگری تک دائیں یا بائیں جہت پر نماز پڑھنے سے بھی نماز ادا ہو جاتی ہے، مگر جب اتنی مقدار کا فرق معلوم ہو جائے کہ قبلہ سے بالکل ہٹا ہوا ہو ،تو پھر اس کی اصلاح ضروری ہے، قصداً اتنی ڈگری کے فرق سے نماز پڑھنے سے احتراز چاہیئے۔
ففی بدائع الصنائع: إما إن كان قادرا على الاستقبال أو كان عاجزا عنه فإن كان قادرا يجب عليه التوجه إلى القبلة إن كان في حال مشاهدة الكعبة فإلى عينها، أي: أي جهة كانت من جهات الكعبة، حتى لو كان منحرفا عنها غير متوجه إلى شيء منها لم يجز، لقوله تعالى: {فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره} [البقرة: ١٤٤] ، وفي وسعه تولية الوجه إلى عينها فيجب ذلك، وإن كان نائيا عن الكعبة غائبا عنها يجب عليه التوجه إلى جهتها، وهي المحاريب المنصوبة بالإمارات الدالة عليها لا إلى عينها، وتعتبر الجهة دون العين اھ(۱/ ۱۱۸)واللہ اعلم